Circle Image

ڈاکٹر طارق انور باجوہ

@TariqBajwa

اس کا ضمیر لفظ کے سانچوں میں ڈھل گیا
کہنے کو تھا وہ جھوٹ منہ سے سچ نکل گیا
شیطان حسن اوڑھ کے آیا تھا بار بار
پڑھ کر کتاب عشق کی میں بھی سنبھل گیا
لمبی اندھیری رات میں تارے نہ رہ سکے
نکلا جو چاند پھر تو نہیں ایک پل گیا

0
1
ہماری تو یہی خواہش رہی وہ رام ہو جائے
کہیں پہلے نہ اس سے زندگی کی شام ہو جائے
چمن والوں نے مل کر خود کو خوشبو سے سنوارا ہے
مرے محبوب کا شاید وہ رستہ عام ہو جائے
ہم اب تو رات دن بیٹھے اسی کے در پہ رہتے ہیں
ہمیں کچھ آسرا ہو گا ہمارا کام ہو جائے

6
چلا تھا میں بھی دو قدم صنم کی رہنمائی میں
مگر تھا راستہ کٹھن میں رہ گیا چڑھائی میں
نشیب زندگی میں ہیں ، فراز کا ہے سامنا
ہے آبشار کوہ پر ندی بنی جو کھائی میں
زبان ساتھ دے تو میں کہوں اسے بُرا بھلا
مگر کوئی نہ یہ کہے ہے فرق بھائی بھائی میں

0
7
تُجھ کو الفت سے عداوت ہی سہی
کچھ مروّت کی اجازت ہی سہی
تیری خاطر جو گزاری میں نے
زندگی اپنی شہادت ہی سہی
غور کرنا نہیں جو سن تو لے
گفتگو میری کرامت ہی سہی

0
3
شہزادیاں ہیں گھر کی مرے میری بیٹیاں
اک بیٹی اک بہو مری پوتی نواسیاں
جس گھر میں ہوں یہ رونقیں بستی وہاں پہ ہیں
جب روٹھ جائیں ہوتی ہیں ویران بستیاں
والد کی چاہتوں پہ کریں ناز اک طرف
چپکے سے دیکھ کر ہنسیں ماں کی چہے تیاں

0
9
اب تو کتنے دن ہوۓ آئی خزاں، گزری بہار
ختم کر دے میرے مولا اب غضب کی رہ گزار
خُود چلا ایسی ہوا اُڑ جائیں بادَل کرب کے
نور کا فیضان نازل کر کہ ٹھنڈی ہو یہ نار
بھیج کچھ ایسی ہمیں اپنے فرشتوں کی مدد
جس کے آنے سے فضا ہو جائے پھر سے سازگار

0
7
روشنی میں نہ دن کو رات کرو
کچھ جنوں کو خرد سے مات کرو
حسن جلوہ گری کرے نہ کرے
تم جو عاشق ہو احتیاط کرو
لکھ نہ پاؤ گے سب کی سب باتیں
گر سمندر بھی تم دوات کرو

0
1