| قدوس جس نے مُردہ دلوں کو جِلا دیا |
| وہ ہے سلام جس نے غموں کو بھُلا دیا |
| پھر سوزِ جاں نہ دردِ جُدائی رہا کوئی |
| اُس کی نظر نے ہجر کے دُکھ کو بھُلا دیا |
| میرے لبوں پہ نام ترا جب سے آ گیا |
| لفظوں نے نُور جیسا تھا فیضان پا لیا |
| جو دل جھُکا تو در پہ کرم کی ہوا چلی |
| بس ایک دم نے ذِکر سے پردہ اٹھا دیا |
| قدوس جان کر تجھے جاں کو سکوں ملا |
| کہتے ہیں لوگ فیض کہاں سے یہ پا لیا |
| لمسِ کرم سے روح معطّر جو پھر ہوئی |
| چشمِ یقیں نے غیب کا پردہ ہٹا دیا |
| کیا جلوہ تھا کہ ساری فضا بن گئی سلام |
| کیا نغمہ تھا جو رات کے دل میں سما گیا |
| وہ حُسن جس میں درد بھی راحت بھی نُور بھی |
| اُس نے مجھے بھی عشق میں خُود سے ملا دیا |
| اے دل جنوں کی راہ میں پیدا نِظام دیکھ |
| قدوس نے بھی درد کو نغمہ بنا دیا |
| طارق سلام ہی کی ثنا میں حیات ہے |
| جس نے سکوتِ ہجر کا منظر مٹا دیا |
معلومات