خوش بخت ہیں جو پائیں اِنفاخِ قدسیہ
ربّ کے قریب لائیں انفاخِ قدسیہ
فکر و نظر کو کردیں مہمیز اس طرح
علم و عمل بڑھائیں انفاخِ قدسیہ
عصیان دور کرنے کا حوصلہ بھی دیں
شیطان کو بھگائیں اِنفاخِ قدسیہ
ہم ان پہ غور کر کے سب مستفیض ہوں
اوروں کو بھی پڑھائیں انفاخِ قدسیہ
دل میں یقیں بڑھائیں مایوسیاں نہ ہوں
جو نیند سے جگائیں اِنفاخِ قدسیہ
مایوسیوں کے دشت میں مثلِ نسیم صبح
امید یہ دلائیں اِنفاخِ قدسیہ
ہر چال نفس کی یہ چپکے سے توڑ دیں
راہِ رضا دکھائیں اِنفاخِ قدسیہ
سینوں میں عدل بوئیں دل میں حیا بڑھے
جینا ہمیں سکھائیں اِنفاخِ قدسیہ
ہوں بغض دور سارے کینے بھی ہوں پرے
آپس میں یہ ملائیں اِنفاخِ قدسیہ
دیوار تفرقوں کی دل سے گرائیں یوں
یہ الفتیں بڑھائیں اِنفاخِ قدسیہ
ظاہر کو جو سنواریں باطن نکھار دیں
طارق کو راس آئیں اِنفاخِ قدسیہ

0
1