ہے سالِ نو کی نئی صبح لائی کیا یہ نوید
اب اختتام کی اس تیرہ شب کی ہے امید
چلے گی امن کی خوشبو جہاں کی گلیوں میں
محبتوں کی دلوں میں ہوئی ہے کیا تائید
خلوص جاگے گا جھک جائیں گے غرور و انا
جہاں میں ختم اب ہو جائے گی یہ قطع و برید
امام آئے زمانے کے چھائے روحوں پر
ہم ان کی راہ پہ چلنے کی پھر کریں تجدید
وطن کی مٹی میں رنگِ وفا اُبھر آئے
خزاں ہو ختم ہو سچائی کی بہارِ سعید
دُعا ہے راہِ بشر پر ہو روشنی قائم
نئے زمانے کی پھر ہو عمل سے پُر تمہید
خدا کرے کہ اتر آئے دل میں صبر و ثبات
سکونِ جاں کو ملے بندگی کا لطف مزید
جھکے سروں میں ہو پہچانِ حق کی تابانی
کھلے شعورِ بشر پھیلے ہر طرف توحید
کہ نحس کذب و دجل ظلمتوں میں کھو جائے
ملے جو حوصلہ سچائیوں کو اور تائید
یہ سال ایسا ہو تاریخ خود یہ لکھ ڈالے
بدل گئی ہے زمانے کی سمت اور تنقید
ہر ایک سمت اجالوں کا راج ہو طارق
اندھیری رات سے نورِ سحر ہو ایسے کشید

0
4