دل شکستہ ہو تو ہر درد کا درمان ہے وہ
ڈوبتوں کے لیے رحمت کا ہی عنوان ہے وہ
خود کو عصیان میں گم ہو کے اکیلا جانا
تب کھلا مجھ پہ مرے حال کی پہچان ہے وہ
عشق نے جب بھی سکھایا مجھے آگے بڑھنا
راہِ توبہ میں مرے واسطے عرفان ہے وہ
دور ہو کر بھی جو مانگوں تو عطا کرتا ہے
میرے ہر جرم پہ بھی عفو کا فیضان ہے وہ
حسنِ محبوب میں دکھتی ہے اسی نور کی لو
عشق خالص ہو تو پھر جلوۂ یزدان ہے وہ
میں نے پھر اشکِ ندامت سے پکارا جس دم
رحمتوں سے مرے دامن کا نگہبان ہے وہ
نہ حساب اس کا کڑا ہے نہ عتاب اس کا قوی
بخش دینے میں ہمیشہ سے فراوان ہے وہ
میں خطا کار سہی اس کی عطا کم تو نہیں
میری توبہ کا ازل سے ہی قدر دان ہے وہ
خود کو کھو کر جو ملا وہ بھی اسی کی دولت
فقر میں بھی مرے دل کا بڑا سلطان ہے وہ
نام لیتا ہوں جو طارق تو سکوں پاتا ہے دل
میرا معشوق بھی معبود بھی رحمان ہے وہ

0
6