دل کی بیتابی میں اُترے جو سکوں پائیں کہاں؟
ڈولتی سانسوں کو تھامے جو یقیں بن کے گماں
رات کے خاموش سفروں میں جو پہرے پر رہے
نیند سے پہلے محافظ ہو وہی یارِ نہاں
میں جو بکھروں تو سمیٹے مجھ کو وہ آغوش میں
عکس جو ٹوٹے وہ جوڑے اس سے ہے میرا جہاں
خوف کے دل میں کہیں گر بیج جو اگنے لگیں
اس کی تصدیقِ نظر آساں کرے سب امتحاں
جب کبھی لفظوں میں ڈھل پائے نہ میری بےبسی
آنکھ کے آنسو کو معنی دے سُنے میری فغاں
راہ بھولوں تو ستاروں کی چمک ہو رہنما
گرد میں ڈوبے قدم بن کر رہیں نقشِ نشاں
میں گروں جب میری مٹی لے مجھے آغوش میں
جاتے جاتے بھی عطا کر دے مجھے اپنا مکاں
بولنے لگتی ہے خاموشی بھی اس کے سامنے
وہ نہیں محتاج لفظوں کا سنے دل کی زباں
وقت کے سیلاب میں ڈوبے نہیں لمحے مرے
ضبط کا ساحل بنا ہے روک اس کے درمیاں
میں نے جب خود کو مٹایا ہے تو یہ معنی کھلے
وہ جو مؤمن ہے مُھَیمِن ہے عطا کر دے اماں
میں جو غافل ہوں نگہ مجھ پر وہی باقی رہے
گھیر کر محفوظ رکھے مجھ میں جیسے اس کی جاں
اس کی چاہت کے سوا آئے کسی کا بھی خیال
دل میں وحدت کی لگن بن جاتی ہے برقِ تپاں
میں بھلا طارق حفاظت کر سکوں اپنی تو کیا
دل کی دھرتی پر اُتر آئے وہ بن کر پاسباں

5