مرے ٹوٹے ہوئے دل کی اسی نے کی مرمّت ہے
مرے ہر زخم کا مرہم فقط اُس کی محبّت ہے
نہ مانگی ہے نہ گِنوائی نہ تولی ہے کبھی چاہت
مری پہچان کا باعث اُسی ہستی سے نسبت ہے
میں خود کو کھو کے پا جاؤں اسے یہ نفع ہے میرا
میں ہارا دل ہوئی مقبول میری جو عبادت ہے
وہ مجھ سے دور ہو کر بھی مرے اندر رہے دائم
ملی ہے اُس سے جو قربت اسی کی سب ودیعت ہے
نہ خوفِ رد نہ اندیشہ نہ شرطِ نیک و بد کوئی
قبولیت مری آنکھوں کی اک سچی ندامت ہے
میں جل کر بھی نہیں مٹتا یہ کیسا عشق ہے جس میں
بقا کی آگ میں ہوتی عطا روشن بصیرت ہے
وہی اجڑے ہوئے دل کو دوبارہ گھر بناتا ہے
مری ویرانیوں کی شان بھی اُس کی ہی شفقت ہے
امانت اشک کی سانسوں کی خوابوں کی ارادوں کی
مری ہی ذمہ داری ہے جو اس کی دی ولایت ہے
نہ تخت و تاج بھائے ہیں نہ جنت کی ہوس جاگی
فقیری کا ہنر آیا ملی اس کی رفاقت ہے
فنا کے بعد جو دل میں اترتی ہے سکوں بن کر
سمجھ لیتا ہے طارق کیا وہی ہے جو حقیقت ہے

0
4