دل کی بستی میں تری یاد کا سامان تو ہے
دھڑکنوں میں کوئی تسبیح کا عنوان تو ہے
میں نے چاہت کو عبادت کی طرح مان لیا
جذبِ الفت کو چھپانا یہاں آسان تو ہے
جب پڑے سر پہ سلیقے بھی تو آ ہی جائیں
جیسے صحراؤں میں اُترے کوئی باران تو ہے
میں نے تجھ کو ہی حقیقت کا سِرا سمجھا تھا
اب ہوا حقِّ یقیں پہلے سے ایمان تو ہے
دل کی تاریکی میں جگنو سا دیا چاہے جلے
ہر کرن اس کی بھی الفت کا چراغان تو ہے
میں نے در کھول دیے خواب کے موسم میں ہزار
اور ہر در سے جُڑا ایک گلستان تو ہے
دل میں پا کے بھی تجھے کھونے کا امکان رہا
عشق کا کھیل عجب زیست کا سامان تو ہے
میں بھٹکتا جو نہیں اس کا سبب ہے کوئی
قافلہ سیدھا چلے ایک نگہبان تو ہے
آخرِ کار یقیں ہو گیا طارق اتنا
روح زخمی ہے جو مرہم مرا رحمان تو ہے

0
5