Circle Image

سید ثاقب الحسن (صائبؔ زیدی)

@syedsaqibulhassansaiib

شاعرِ اہلِ بیت علیھم السلام

درِ خدا پر علیؑ ہی ہونگے
رخِ پیمبرؑ علیؑ ہی ہونگے
رجب کی تیرہ سِوائے منکر
‏‎سبھی کے لب پر علیؑ ہی ہونگے
دلیل اس کی حدیثِ قدسی
وہ نورِ پیکر علیؑ ہی ہونگے

0
4
خدا کہتا ہے جبریلِؑ امیں سے
نبیؐ جا کر ملیں میرے مکیں سے
یہ بیتِ کبریا نے کھل کھلا کر
کہا آئے علیؑ عرشِ بریں سے
ملک اس درجہ آئے دید کو پھر
فلک ملنے لگا جھک کر زمیں سے

0
7
خدا کے دین کی تنویر زینبؑ
دیارِ کن کی ہیں تقدیر زینبؑ
نظامِ کبریا جس نے بچایا
وہ شاہِ دیںؑ کی ہیں ہمشیر زینبؑ
ہے برگ و گل کے لب پر یہی نغمہ
علی کی بولتی تصویر زینبؑ

0
5
نسیمِ حق نے یہ نغمہ پڑھا ہے
غدیرِ خم کا میخانہ سجا ہے
ولا کا جام تھامے بولے سلماں
الگ سب سے الگ اسکا نشہ ہے
مقصر پی کے گرتا ہے زمیں پے
یہ کم پینے کی بھی دیکھو وجہ ہے

0
3
فوجِ صفین سے بھاگو کی صدا آئی ہے
تیغِ عباسؑ جو ان سب کی قضا لائی ہے
ہلکی سی غازیؑ نے گھوڑے پہ جو انگڑائی لی
اور زِرہ ٹوٹ کے پھر خاک پہ اس دم تھی گِری
تیغ بھی جوش میں لینے لگی انگڑائی ہے
منھ کو ڈھانپے ہوئے چلتے رہے دشمن کی طرف

0
5
لفظِ کُن کے راز سے جو کوئی منکر ہو گیا
اس عمل سے لازمی وہ دیکھو کافر ہوگیا
لوریوں میں جسنے ماں سے نام حیدرؑ کا سنا
بچپنے سے باطنی وہ شخص طاہر ہوگیا
جعفرِ صادقؑ کے مکتب سے ہُوا جو فیضیاب
دو جہاں کے علم میں وہ بندہ ماہر ہوگیا

0
4
ملنے ملانے کا جو سلیقہ بدل لیا
اور گفتگو کا سب سے طریقہ بدل لیا
بھٹکے نہ پاس کوئی سقیفائی اس لئے
اس ہی لئے تو ہم نے محلہ بدل لیا
جھوٹوں کی کر رہے ہیں سراسر جو پیروی
رنگ و نسل کے ساتھ عمامہ بدل لیا

0
3
میت سے فاطمہؑ کی جو لپٹے رہے حسینؑ
اماں کی بند آنکھوں پہ روتے رہے حسینؑ
اماں سے کہہ دیں بابا کہ اٹھ جائیں ایک بار
خاموش کیوں ہیں باتیں کریں ہوتا ہوں نثار
فریاد میری سن لو یہ کہتے رہے حسینؑ
اک بار مجھ کو ہاتھوں سے کھانا کھلا دو ماں

0
1
آنکھیں بہن کی ڈھونڈتی ہیں ہو کہاں حسینؑ
زینب غریب کرتی ہے رو کر فغاں حسینؑ
تیروں سے جسم ہے بھرا گرتے ہو زین سے
گرتے ہو زین سے
تیرے بدن میں گاڑی گئیں برچھیاں حسینؑ
پامال تجھ کو کر دیا گھوڑوں کی ٹاپوں سے

0
2
اکبرؑ جواں کی لاش پہ مادر کے ہیں یہ بین
ڈوبا ہے خوں میں مارا گیا میرا نورِ عین
اٹھو اے بیٹا دیتی صدائیں ہیں تجھ کو ماں
شانہ ہلا کے بیٹے کا کہتی ہے رو رو ماں
اے لال کچھ تو بولو ملے دل کو میرے چین
اے لال تو ہے بابا کا اور میرا لاڈلہ

0
5
چہلم منانے بھائی کا زینبؑ جو آئی ہے
ظلم و ستم کی داستاں رو رو سنائی ہے
شمرِ لعیں کے وار پہ اماں کی تھی صدا
نہ مار میرے بچے کو میری کمائی ہے
جس پہ تھا سر تمھارا وہ نیزہ تھا خوں میں تر
آنکھوں میں میرے خون کی سرخی وہ چھائی ہے

0
6
دل کو سنبھالو رب کے یہ مظہرؑ کی عید ہے
عیدِ غدیر خالقِ اکبر کی عید ہے
تھامے ہوئے جو دیکھا نبیؐ کو علیؑ کا ہاتھ
کم ظرف مر رہے تھے کہ بہتر کی عید ہے
مخبر تھے جتنے اور دلوں میں چھپا تھا بغض
منہ کو بنا کہ کہتے ہیں حیدرؑ کی عید ہے

0
3
ظاہرہوئی خدا کی مشیت غدیر میں
طاہر دلوں کی ہوگی عبادت غدیر میں
الحمد ہو کہ سورۂ یا سین ہو کہ ناس
بڑھنے لگی ہے سبکی فضیلت غدیر میں
تقسیم رزق کرتا ہے جو دو جہان کا
ہوتی عیاں ہے آج وہ قدرت غدیر میں

0
3
نعرہ علیؑ ولی کا لگاؤ غدیر ہے
جشنِ ولا میں مومنو آؤ غدیر ہے
گھر میں ہیں آئے سارے علیؑ کے موالی آج
میٹھا سبھی کا منھ بھی کراؤ غدیر ہے
نامِ علیؑ سے جلکے جو ہونے لگے کباب
پڑھ کر تبرہ اسکو جلاؤ غدیر ہے

0
3
فدک کے چوروں کو رہبر بنایا ہے تم نے
سقیفہ والوں کو دل میں بسایا ہے تم نے
یقین جھوٹوں کی باتوں پہ ہے وحی کی طرح
عدوئے زہراؑ کو سچا بتایا ہے تم نے ۔
سنہرے بالوں کی ملکہ جسے بتاتے ہو
ارے وہ گنجی کو سندر دکھایا ہے تم نے

0
2
فلک ہے روتا نبیؑ بھی تمام روتے ہیں
علی نقیؑ پہ گَیارہ امامؑ روتے ہیں
ہوئے ہیں زہرِ دغا سے جگر کے ٹکڑے بھی
یہ کہہ کہ آج بھی قائمؑ مقام روتے ہیں
کلیجہ تھامے اگلنے لگے ہیں خوں مولاؑ
لہو کو دیکھ کے دیوار و بام روتے ہیں

0
3
حسینؑ کی ہے سدا آج بھی میں تنہا ہوں
لہو کو میرے نہ بیچو یہ ہی میں کہتا ہوں
لگاتے قیمتیں شامی تھے میرے سر کی وہاں
عزا کو تم نے بنایا ہے کاروبار یہاں
یہ دیکھ دیکھ کہ میں اب بھی خون روتا ہوں
سجا کے طشت میں بیچا گیا تھا انگلی کو

0
3
کہ گھر میں جیسے ہی اپنے جو جائے گی زینبؑ
جگر کے ٹکڑوں کو ہائے نہ پائے گی زینبؑ
نظر پڑے گی جو بے ساختہ وہ حجروں پر
تڑپ کے بچوں کو اپنے بلائے گی زینبؑ
لباس بچوں کا سینے سے وہ لگا کے حزیں
کہ دے گی بوسے وہ آنسو بہائے گی زینبؑ

0
2
علیؑ کے چاہنے والوں کا ایک نعرہ ہے
خلیفہ تیرے ہیں مولا علیؑ ہمارا ہے
نہ پوچھ ہم سے نبیؑ و علیؑ کے رشتے کو
خدا نے نُور کو دو حصوں میں اتارا ہے
چلا تھا عرش سے کرتا ہوا طواف بھی وہ
خدا نے بھیجا جسے وہ علیؑ ستارہ ہے

0
3
کہا حسینؑ نے دل پر لکھا سکینہؑ ہے
بھلا یہ کیوں نہ ہو نورِ خدا سکینہؑ ہے
حیات ہے یہ مری اور ہے یہ جان مری
نمازِ شب میں جو مانگی دعا سکینہؑ ہے
نگاہیں بیٹی سے ہٹتی نہیں ہیں اُسکا سبب
کہ جس کو ماں کا ہے چہرہ ملا سکینہؑ ہے

0
2
جگر کو تھام کے جب حال دیکھا اکبرؑ کا
اَنی کے ساتھ میں نکلا کلیجہ اکبرؑ کا
انَی جو کھینچی تو خوں آیا چہرے پر شہؑ کے
تڑپ کے رہ گئے دیکھا ہے چہرہ اکبرؑ کا
خدا یہ میری ضعیفی کا تھا سہارا جواں
ستم کے نیزے نے چھیدا ہے سینہ اکبرؑ کا

0
3
سجادؑ کی ہر سانس میں اک درد بسا ہے
نیزے پہ ردا دیکھ کے خوں روتا رہا ہے
بنتِ علیؑ کو مارو صدا سنتے ہی بیمار
کانٹوں بھری وہ راہ پہ مظلوم گرا ہے
پتھر تو کبھی اور بھی مارے گئے درے
عابد کا لہو شام کی گلیوں میں ملا ہے

0
3
ہر زخمِ رسن کُرتے سے چپکا ہے سکینہؑ
رخ تیرا طمانچوں سے بھی سوجا ہے سکینہؑ
آنسو ہیں رواں کہتی پھوپھی جان تمھاری
معصوم ہنسی کو تیری ترسی ہوں میں پیاری
بند آنکھوں پہ یہ دل مرا پھٹتا ہے سکینہؑ
گوہر کو تیرے کانوں سے کھینچا گیا بیٹا

0
4
خلقِ خدا سے سب نے یہ بھی صدا سنی تھی
دعبل بھی خندہ زن تھے بزمِ ولا سجی تھی
سوچوں سے بھی ہے بالا وسعت تمھاری دعبل
حق پر گزاری تم نے ساری جو زندگی تھی
کرتی بھی کس طرح سے گمراہ اس کو دنیا
دل میں علیؑ تھے لب پر مدحت سجی ہوئی تھی

0
4
قاسمؑ کے نام سے یہ محفل سجی ہوئی ہے
قوس و قزح قصیدہ ان کا ہی پڑھ رہی ہے
آغوش میں حسنؑ کے قرآن کی ہے آیت
انوارِ کبریا کی یعنی کلی کھلی ہے
روشن جبیں ہے انکی بلکل ہی دادا جیسی
تیور بتا رہے ہیں خونِ علیؑ ولی ہے

0
1
ہم کیوں نہ کریں ماتم اے شاہِ زمن تیرا
تکبیر پڑھ کے خنجر امت نے ہے چلایا
شاہِ ہدا کا لاشہ کربل میں بے کفن ہے
ٹکڑوں میں بٹ گیا جو زہرا کا گلبدن ہے
مادر کی گود میں وہ حلقوم کو ہے کاٹا
غش میں پڑی ہے مادر اصغر کو ہے بلاتی

0
2
زہراؑ کے لاشے پر یہ کہتے تھے رو کے سرورؑ
اٹھو نا میری مادر
کیوں بولتی نہیں ہو دل پر ہے چلتا خنجر
اٹھو نا میری مادر
بابا یہ کہہ دیں ماں سے اٹھ کر مجھے بلا لیں
سینے مجھے لگا لیں

0
2
جنازے پر علیؑ کے غمزدہ زینبِؑ کا ہے نوحہ
نہ جاؤ چھوڑ کے بابا
ابھی کچھ دیر پہلے ہی پکارا نام تھا میرا
نہ جاؤ چھوڑ کے بابا
کہا تھا کل ہی تو مجھ سے نہ گھبراؤ مری بیٹی
یہ رو رو کر ہے بولی

0
3
جہاں میں گونجتی صدا حسینؑ سا کوئی نہیں
خدا کے جیسا دوسرا حسینؑ سا کوئی نہیں
ملے تھے جس گھڑی اُسے یہ بال و پر بھی نور کے
ملک نے سب سے یہ کہا حسینؑ سا کوئی نہیں
لہو کی دھار سے یزیدیوں کے سر اڑا دیئے
ہر ایک فرد کہہ اٹھا حسینؑ سا کوئی نہیں

0
5
جو حرؑ کو حق کا راستہ دکھا دیا حسینؑ نے
بجھا ہوا تھا اک دیا جلا دیا حسینؑ نے
نماز میں حسینؑ میں تلاش فرق مت کرو
یہ فرق بچپنے میں ہی مٹا دیا حسینؑ نے
بتاؤں آج میں تمھیں کہ کس نے تم کو کیا دیا
شراب دی یزید نے خدا دیا حسینؑ نے

0
3
نورِ ﷲ ہے تمھارا نور وللہ فاطمہؑ
منفرد جب ہی خدا نے تمکو رکھا فاطمہؑ
غاصبوں کے ظالموں کے نام ہیں لکھے جہاں
لائیں گے وہ منتقمؑ تیرا صحیفہ فاطمہؑ
در حقیقت مرضئِ ﷲ ہے اذنِ بتولؑ
بن تمھارے حکم کے ہلتا نہ پتّا فاطمہؑ

0
46
چاند ہوتا ہے خجل نورِ ولا کے سامنے
ہاتھ باندھے عرش ہے فرشِ عزا کے سامنے
جو عزائے سیدِ والؑا کا سودا کرتے ہیں
کیا کہیں گے پوچھ لو وہ سیدہؑ کے سامنے
دیکھ کے اکبرؑ کو بولے سیدِ ابرارؑ یہ
تمکو رب نے ہے بنایا مصطفیؐ کے سامنے

0
43
کون سمجھائے بھلا اب قدر و قیمت باپ کی
بیکار ہے وہ زندگی جس میں نہ شفقت باپ کی
خوں پسینہ ایک کر کے گھر میں آنا یاد ہے
گھومتی ہے آج بھی نظروں میں محنت باپ کی
ماں کی خدمت سے سنوارو تم مقدر کو ذرا
پھر کرو تم سونے سے بھی پہلے خدمت باپ کی

0
49
اُسی کو دین خدا کا سمجھ نہیں آتا
جسے غدیر کا مولاؑ سمجھ نہیں آتا
کسی کو چھت تو کہیں لکھا تم نے ہے کھڑکی
حدیث کو یوں بدلنا سمجھ نہیں آتا
جو بھاگے احمدِؐ مرسل کو چھوڑ کر ہر بار
تیرا بھگوڑوں سے رشتہ سمجھ نہیں آتا

0
81
فدک کے چوروں کو رہبر بنایا ہے تم نے
سقیفہ والوں کو دل میں بسایا ہے تم نے
یقین جھوٹوں کی باتوں پہ ہے وحی کی طرح
عدوئے زہراؑ کو سچا بتایا ہے تم نے
سنہرے بالوں کی ملکہ جسے بتاتے ہو
ارے وہ گنجی کو سندر دکھایا ہے تم نے

0
70
ہے وقتِ سفر آخری آئے گا نہ بھیا
گھبرانہ نہ بہنا
تیروں پہ بدن نیزے پہ سر میرا یہ ہوگا
گھبرانہ نہ بہنا
بازو میں رسن باندھے گے اور چھینیں گے چادر
یہ سارے ستم گر

0
54
باپ کی میت پہ قاسمؑ رو رہے ہیں زار زار
دیکھتے ہیں بھائی اور قاسمؑ کو سرورؑ بار بار
طشت میں ٹکڑے جگر کے دیکھ کے روئےحسینؑ
ٹکڑے ٹکڑے ہوکے قاسمؑ دین پر ہوگا نثار
آج بھائی کے یہ لاشے پر ہے زینبؑ جو نڈھال
کربلا میں لاشِ قاسمؑ پر یہ ہو گی سوگوار

0
82
ہر نفس ہر سانس نذرِ کربلا ہوتی رہے
زندہ جتنی بار ہوں اس پر فدا ہوتی رہے
تم سدا کرتے رہو بس مجلسِ سرورؑ بپا
جان جاتی ہے تو جائے یہ سدا ہوتی رہے
گھر پہ میرے ہے لگا غازیؑ کا پرچم اس لئے
اہلِ کیں دیکھیں تو جاں انکی فنا ہوتی رہے

0
78
خالقِ عالم نے فرمایا ہے یہ قرآن میں
ہے بشر پر منفرد رکھا انہیں انسان میں
یا علیؑ مشکل کشا میری مدد فرمائیے
نعت کہنا ہے محمد مصطفیؐ کی شان میں
آپؐ کے ہی واسطے ہم کو ملی وہ نعمتیں
نعمتیں لکھ دیں گئیں جو سورۂ رحمان میں

0
83
جو درِ فاطمہ زہراؑ پہ پڑے رہتے ہیں
دین و دنیا کی وہ نعمت سے بھرے رہتے ہیں
جو عبادت سے بھی پہلے کرے زہراؑ کو سلام
یہ عمل کر کے وہ نبیوں سے جڑے رہتے ہیں
ظلم کے سامنے سر دیکھو جھکے ہیں نہ کبھی
ہم علیؑ والے سدا حق پہ کھڑے رہتے ہیں

0
75
دو ٹکڑے آسماں پہ قمر دیکھتے رہے
انگشتِ مصطفیؐ کا اثر دیکھتے رہے
دیکھا عدو نے شانۂ احمدؐ پہ جب حسینؑ
چلتے تھے دل پہ تیر و تبر دیکھتے رہے
گودی میں شہؑ کو دیکھ کہ جلتے تھے شیخ جی
صدمے سے تھامے اپنا جگر دیکھتے رہے

0
74
نہ اب حسینؑ نہ لشکر حسینؑ کا ہوگا
سفر بھی زینبِ مضطر کا بے ردا ہوگا
سنبھالے دل کو یہ شامِ غریباں میں زینبؑ
یہ کہتی ہی رہیں بھائی ہمارا کیا ہوگا
چلے گا کارواں مظلوموں بے کسوں کا جب
بغیر بازو کے غازیؑ کو دیکھنا ہوگا

0
54
اُسی کو دین خدا کا سمجھ نہیں آتا
جسے غدیر کا مولاؑ سمجھ نہیں آتا
جو بھاگے احمدِؐ مرسل کو چھوڑ کر ہر بار
تیرا بھگوڑوں سے رشتہ سمجھ نہیں آتا
ہیں کل کے کل بھی ایماں علیؑ ولی آخر
تمھیں یہ قول نبی کا سمجھ نہیں آتا

0
58
عظمتِ بنتِ اسدؑ کعبے میں جو در نکلا
ذاتِ اکبر کا وہ گھر مسکنِ حیدرؑ نکلا
خانۂ کعبہ میں کہتے ہوئے گرتے ہیں صنم
دیکھو وہ تیغ لئے حیدرِؑ صفدر نکلا
اپنے چکر کو تُو کہتا ہے طوافِ کعبہ
در حقیقت تیری تقدیر کا چکر نکلا

0
73
نغمہ حیدر کا سناؤ تو کوئی بات بنے
پرچمِ غازی اُٹھاؤ تو کوئی بات بنے
ذکرِ حیدر سے جنہیں بغض ہے اور جلتے ہیں
ان کے دل اور جلاؤ تو کوئی بات بنے
ذکرِ مولا نہیں ہوتا وہاں، جاتے ہی نہیں
جشن حیدر کا مناؤ تو کوئی بات بنے

0
78
رتبۂ مولا رضؑا کوئی بھی سمجھا ہی نہیں
نورِ اللہ امتی نے ان کو مانا ہی نہیں
آپؑ ہیں جود و سخا اور مالکِ ارض و سماں
در سے خالی آپؑ کے کوئی بھی لوٹا ہی نہیں
یا کریمؑ ابنِ کریمؑ ابنِ ولیؑ ہیں آپ تو
دو جہاں میں موسئ کاظمؑ سا بیٹا ہی نہیں

0
68
خالقِ عالم نے فرمایا ہے یہ قرآن میں
ہے بشر پر منفرد رکھا انہیں انسان میں
یا علیؑ مشکل کشا میری مدد فرمائیے
نعت کہنا ہے محمد مصطفیؐ کی شان میں
آپؐ کے ہی واسطے ہم کو ملی وہ نعمتیں
نعمتیں لکھ دیں گئیں جو سورۂ رحمان میں

0
65
نورِ خدا کی چوتھی یہ تشہیر دیکھیے
حُسنِ حسنؑ کے جلووں کی تنویر دیکھیے
کون و مکاں پہ چھانے لگا نور کا سماں
مدحِ حسنؑ کی مؤمنو تو قیر دیکھیے
آغوشِ سیدہ میں ہے قرآن کی زباں
قرآن بولا میری یہ تفسیر دیکھیے

0
63
کہتا ہے کھل کھلا کہ یہ کعبہ علیؑ علیؑ
جس کا تھا انتظار وہ آیا علیؑ علیؑ
آدمؑ ہوں نوحؑ ہوں کہ ہوں موسیٰؑ کہ ہوں مسیحؑ
مشکل میں دیکھو سب نے پکارا علیؑ علیؑ
کرتے ہیں لوگ ہم کو مٹانے کی کوششیں
زندہ ہیں نام لے کہ تمھارا علیؑ علیؑ

0
138
فلک یہ جھوم کر کرتا بیاں مولا تقیؑ کا آج
قصیدہ پڑھ رہی ہے ہر زباں مولا تقیؑ کا آج
سخیؑ ابنِ سخیؑ ابنِ ولیؑ اور پاسبانِ دیں
ولا کا جا بجا چرچا یہاں مولا تقیؑ کا آج
زمیں پہ سیدہؑ کے بیٹے کا یہ نور ہے اترا
منور چہرے ہیں اور خانداں مولا تقیؑ کا آج

0
60
پُر نور جشنِِ پاک ہے ذکرِ ولا کرو
مدحِ علیؑ کے واسطے روشن دیا کرو
زہراؑ کے دشمنوں پہ تبرا کیا کرو
سارے پیمبروں کی دعائیں لیا کرو
جب بھی کسی سبیل کا پانی پیا کرو
تم لشکرِ یزید پہ لعنت کیا کرو

0
73
اپنی ہر سانس پہ خوں روتے یہ مہدیؑ کہہ کر
قتل محسنؑ ہوا امت کے ستم ڈھانے پر
کیا خطا تھی میرے محسنؑ کی بتا دے کوئی
دل پھٹا جاتا ہے بچہ میرا لا دے کوئی
نوحہ یوں کرتی رہیں بنتِ نبیؑ رو رو کر
جلتا دروازہ گرایا ہے کیے ظلم و ستم

65
عظمت میں فاطمؑہ کی جو اتری ہیں آیتیں
واجب ہے کرنا سجدہ بھی ایسی ہیں آیتیں
توحید کو عیاں بھی یوں کرتی ہیں آیتیں
قرآن بیٹے بیٹیاں ساری ہیں آیتیں
مخفی تھا نور ذاتِ مقدس کا اس لئے
زہراؑ پہ ربِ اولیٰ کو لکھنی ہیں آیتیں

82
ستم مجھ پر ہوئے بابا یہ نوحہ فاطمہؑ کا ہے
تمام امت نے مل کے گھر جلایا فاطمہؑ کا ہے
تمہارے دل کے ٹکڑے کو طمانچوں سے اذیٌت دی
بُھلا بیٹھے ہیں سب ظالم جو رتبہ فاطمہؑ کا ہے
لگاتے رونے پر پہرے عجب یہ ظلم ڈھاتے ہیں
غٙمِ احساس سے لٙب پر یہ جُملہ فاطمہؐ کا ہے

0
72
مولا حسنؑ کی آنکھوں سے آنسو ہوئے رواں
چہرے پہ ماں کے دیکھا طمانچے کا جو نشاں
ظالم نے آگ در پہ لگائی تھی جس گھڑی
بنتِ رسولؑ تھی پسِ دروازہ ہی کھڑی
پہلو پہ جلتا در وہ گرایا ہے الاماں
شبرؑ نے رکھا ہاتھوں کو خواہر کی آنکھوں پر

0
79
ہئے ہئے زینب ہئے ہئے شام
ہئے ہئے زینب ہئے ہئے شام
بالوں سے منہ ہیں چھپاتی رہییں
عصمت کی ہئے ہئے یہ ملکہ
ہئے ہئے زینب ہئے ہئے شام
ہنستے رہے سارے درباری

0
72
شفقت کی جگہ گھڑکیاں سہتی ہے سکینہؑ
ظالم کے طمانچوں سے بھی سہمی ہے سکینہؑ
زینبؑ نے کہا شمر ذرا سن لے خدارا
درے نہ لگا ننھی سی بچی ہے سکینہؑ
عباسؑ چچا مجھ کو مظالم سے بچا لو
بیٹھی ہوئی یہ خاک پہ کہتی ہے سکینہؑ

2
143
چھائی ہوئی ہے غم کی فضا اربعین پر
چلنا ہے سوئے کرب و بلا اربعین پر
آئے ہیں چھٹکے قید سے شبیر کے حرم
زخمی ہیں قلب سہتے رہے ہیں وہ رنج و غم
ماتم کے ساتھ آہ و بکا اربعین پر
ظلم و ستم و رنج و الم اور تیرا غم

76
صبح عاشور جو دی ہے علی اکبر نے اذان
سحرِ محشر میں ہے دی دین کے انور نے اذان
دل پہ خنجر کی طرح چلتی رہی دشمن کے
ایسی دی احمدِ مرسل ترے مظہر نے اذان
کہتی تھی ہر ایک بی بی ردا تھامے یہ ہی
سن کے پکڑا ہے سروں کو اسی چادر نے اذان

425
زہرا کے گلستاں سے منور ہے کربلا
ہر گل کی خوشبوؤں سے معطر ہے کربلا
کہنے لگی خدا سے کہ کیسا یہ نور ہے
چہرے سے ہٹتا پردۂِ اکبرؑ ہے کربلا
اکبرؑ جواں نے اپنی جوانی کو دے دیا
اس واسطے تو اب بھی جواں تر ہے کربلا

0
75
جس دم ہوئے امامِ حسن عسکری شہید
لرزی زمیں کہ زہرِ دغا اتنا تھا شدید
امت نے ہی چراغِ امامت بجھا دیا
روتی ہے کائنات سحر بھی ہے آب دید
خوں کو اگلتا دیکھا تو کہتی تھی یہ بَہن
اللہ بچا لے بھائی کو، ہے آخری امید

0
85
قیدِ زندان سے کاظم کو نکالے کوئی
ہے صدا فاطمہ زہرا کی بچالے کوئی
ہوگئے چودہ برس موسئِ کاظم کو یہاں
تازیانے جو لگائے ہیں بدن پر ہیں عیاں
سارا زخمی ہے بدن اُس کو سنبھالے کوئی
ظلم کرتے ہیں لعیں آہ فلک روتا ہے

0
154
ذرا ٹھہرو ابھی تو ظلم کی بھی ہار باقی ہے
امامِ وقت کا آنے کو یاں سالار باقی ہے
ختم بھی ہونے کو لوگو کا انتظار باقی ہے
پلٹ کے آنے کو جو حیدرِ کرار باقی ہے
عجب ہوگا وہ منظر سر بھی یہ بولیں گے اڑ اڑ کر
ابھی عباس کی تلوار کا ہر وار باقی ہے

0
79
دیکھا نہ کائنات میں ایسا مباہلہ
انوارِ کبریاء میں ہو ڈوبا مباہلہ
جھوٹوں پہ لعنتوں کا ہے صحرا مباہلہ
بے لعن ہی رسول نے جیتا مباہلہ
کرتا ہے بحث آج کا مُلا بلا سبب
جاہل کی عقل میں نہیں آتا مباہلہ

0
96
گیارہ امام بیٹے ہیں مادر بتول ہیں
سارے علوم کا یوں سمندر بتول ہیں
عصمت خدا کی اور حجابِ خدا ہیں یہ
وحدانیت کی مرکز و محور بتول ہیں
ہوتے ہیں روشن شمس و قمر کس کے نور سے
بسمِ خدا سے کرتی منور بتول ہیں

0
98
ہادی خدا کے، بولتے قرآں علی نقیؑ
ہیں دینِ کبریا کے نگہباں علی نقیؑ
آتی ہیں ساتھ ساتھ وہاں جنتیں تمام
ہوتے جہاں بھی آکے ہیں، مہماں علی نقیؑ
سونے کے تاروں سے ہے بَنا جَنّتی لباس
یاقوت و موتی کی بھی ہیں کلیاں علی نقیؑ

0
67
دینِ حق پر آج بھی سایہ ابو طالب کا ہے
ہر بدلتی رُت پہ بھی قبضہ ابو طالب کا ہے
دیکھ کس کے گھر میں یہ پلتا نبی کا دیں رہا
نام بس تاریخ میں ملتا ابو طالب کا ہے
لا الہ تم پڑھتے ہو سن لو یہ کلمہ کس کا ہے
سب سے پہلے تھا پڑھا؛ کلمہ ابو طالب کا ہے

0
124
عرفانیت کا مرکز و محور دکھائی دے
سارے علوم کا یوں سمندر دکھائی دے
نظریں ہیں منتظر کے وہ منظر دکھائی دے
یا رب ہمیں زہرا کا وہ دلبر دکھائی دے
ہمنامِ مصطفی ہے وہ حیدر کا ہے پسر
خورشیدِ دیں کا اے خدا انور دکھائی دے

0
88
مولائے کائناتؑ کا چہرہ ہے خوں میں تر
لوگو یتیموں کا یہ مسیحاؑ ہے خوں میں تر
کاری ہے زخم اِتنا کہ اٹھتا نہیں ہے سر
تھامے ہوئے ہیں سر کو تڑپتے زمین پر
آنکھوں میں خوں ہے بھر گیا آتا نہیں نظر
محراب میں بھی خون ہے بکھرا ادھر ادھر

0
80
آغوش میں ہے دے دیا بیٹا بتولؑ نے
شبرؑ کو اپنا لال کہا ہے رسولﷺ نے
دھرتی کو اور زیادہ منور ہے کر دیا
عرشِ خدا سے ابنِ علیؑ کے نزول نے
مہکا دیا ہے فرش کو عنبر سے مشک سے
زہراؑ کا نورِ عینؑ نے حیدرؑ کے پھول نے

0
97
تسکینِ قلب کی یہ لطافت حسنؑ سے ہے
اہلِ ولا میں دیکھو نفاست حسنؑ سے ہے
بعدِ علی جہاں میں امامت حسنؑ سے ہے
دینِ خدا میں اعلی نیابت حسنؑ سے ہے
قائم خدا کے دین میں حرمت حسنؑ سے ہے
قائم قلم کی آج وہ سنت حسنؑ سے ہے

0
83
رو کر فلک ہے کہہ رہا صادق کی لاش پر
گریہ کناں ہیں فاطمہ صادق کی لاش پر
ماتم بھی اس طرح ہوا صادق کی لاش پر
اہلِ فلک نے خوں بہا صادق کی لاش پر
بابا نہ جائیے ہمیں تنہا یوں چھوڑ کر
نوحہ یہ ہی تھا بچوں کا صادق کی لاش پر

0
96
مسلمؑ کے لال خون میں ڈوبے لبِِ فُرات
مارے گئے ہیں بے خطا بچے لبِ فرات
روتا رہا فلک تو لرزتی رہی زمیں
آنسو بہا کے کہتے تھے یہ عرش کے مکیں
آلِ نبی کے پیارے ہیں تڑپے لبِ فرات
کرتا تھا ظلم بچوں پہ جلاد جا بجا

0
83
ثابت کروں یہ کفر کا حق پر نہ بولنا
سب سے بڑی دلیل ہے حیدر نہ بولنا
کفار کے دلوں کو یہ خطبہ غدیر کا
ٹکڑے نہ کر دے دل کے تو خنجر نہ بولنا
یوں دشمنِ زہراؑ پہ ہر اک دم ہو تبرا
ارض و سماں بھی کہہ اٹھیں برتر نہ بولنا

0
72
نبیوں میں کوئی بھی نہیں ہمسر حسینؑ کا
جیتے ملک بھی نام ہیں لے کر حسینؑ کا
تخلیق عالمین کی کرتا نہیں خدا
گرتا نہ گر پسینہ وہاں پر حسینؑ کا۔
بنتِ نبیؑ کی جان دلِ مرتضیؑ ہیں یہ
جنّت بھی ہے حسینؑ کی کوثر حسینؑ کا

0
78
کاٹا ہے سر حسینؑ کا خواہر کے سامنے
بھائی ہے ڈوبا خون میں مادر کے سامنے
حلقوم پہ لعیں نے کیا جس گھڑی ہے وار
ماں نے ہے رکھا ہاتھوں کو خنجر کے سامنے
شمرِ لعیں نے بالوں سے سر کو اُٹھایا پھر
ظالم نے سر کو پھینکا ہے لشکر کے سامنے

0
76
علیؑ کا عشق ہے دیکھو حیات کی کشتی
سوار ہو لو کہ ہے یہ نجات کی کشتی
بسائے بیٹھے ہیں بغضِ علیؑ کو جو دل میں
یہ انکے حق میں ہے بھائی ممات کی کشتی۔
صائب زیدی۔

0
105
فلک بھی دیتا ہے یہ ہی سدا زمانے کو
حسینؑ جاتے ہیں امت کے بخشوانے کو
رواں ہیں اشک بیاں کرتے ہیں یہ روضے پر
چلا نواسہ ہے وعدہ تیرا نبھانے کو
لپٹ کے کہتے ہیں قبرِ نبیﷺ سے یہ سرورؑ
چلا مدینے سے کربل کو میں بسانے کو

0
73
فلک ہے روتا نبیؑ بھی تمام روتے ہیں
نویں امامؑ پہ گَیارہ امامؑ روتے ہیں
ہوئے ہیں زہرِ دغا سے جگر کے ٹکڑے بھی
یہ کہہ کہ آج بھی قائمؑ مقام روتے ہیں
کلیجہ تھامے اگلنے لگے ہیں خوں مولاؑ
لہو کو دیکھ کے دیوار و بام روتے ہیں

0
73
فضا ہے معطر ،خلاء ہے منور، کہ آتے زمیں پر محمدؑ تقیؑ ہیں
نزول ان کا ہوتا ہے خلدِ بریں سے عجب نور پیکر محمدؑ تقیؑ ہیں
زمیں بھی یہ کہتی ہے پھیلائے دامن، جھکا کےفلک بھی یہ سرکو ہے کہتا
محمدﷺ کے جیسے ہیں یہ ابنِ حیدرؑ کہ زہراؑ کے دلبر محمدؑ تقیؑ ہیں
یہ قوس و قزح کی ہیں رنگین راہیں، یہ خوشیاں منائیں یہ کھلتی ہی جائیں
کماں کر لیا ہے، کریں پھر وہ سجدہ، اور اِنکے لبوں پر محمدؑ تقیؑ ہیں

0
74
رو کے زینبؑ نے کہا ہائے برادر غازیؑ
نیزہ ظالم نے ہے مارا مِرے سر پر غازیؑ
آ کے ظالم سے بچا لو ہمیں میرِ لشکر
جل گئے خیمے چھینی ہے میری چادر غازیؑ
درمیاں لاشوں کے بے پردہ کھڑی ہے زینبؑ
زندہ کوئی نہ بچا مونس و یاور غازیؑ

0
91
طاہرہؑ ہیں سیدہؑ ہیں عالمہ ہیں فاطمہؑ
کتنی روشن نورِ اوّل کی دعاءہیں فاطمہؑ
در حقیقت مرکزِ اہلِ کساء ہیں فاطمہؑ
جلوہءِ عرفانِ دیں کی انتہا ہیں فاطمہؑ
رہبرِ راہِ وفا کی یہ منور انجمن
ہم سے کہتی ہے یہی نورِ خدا ہیں فاطمہؑ

0
101
کلمۂ توحید کو ہے آسرا عباسؑ کا
نام صبح و شام لیں شاہِؑ ہدا عباسؑ کا
چند لفظوں میں لکھوں جو ترجمہ عباسؑ کا
مثلِ شیرِ کبریاؑ جلوہ رہا عباسؑ کا
آ گئے تھے پنجتنؑ جب چادرِ تطہیر میں
چادرِ تطہیر میں بھی نور تھا عباسؑ کا

0
98
اس طرح سے بزم کو آخر سجانا چاہئے
تین سو پھولوں سے گلشن لھلھانا چاہئے
برگ و شاخ و گل پہ یہ لکھنا لکھانا چاہئے
مدح کی خاطر ہمیں موسم سہانا چاہئے
مشکلیں بھی کہتی ہیں یہ مشکلوں کے سامنے
ان علیؑ والوں سے بچ کر بھاگ جانا چاہئے

0
108
مبتلا ہیں سوگ میں آلِ پیمبرﷺ عید پر
ہے علیؑ مولا کا دسواں آج گھرگھر عید پر
مسجدِ کوفہ کے اور کعبے کےکہتےہیں ستون
غم میں ہیں ڈوبے ہوئے محراب و منبر عید پر
دیکھتی زینبؑ تو ہوگی راہ بابا کے لئے
آئیں گے وہ لوٹ کے مسجد سے گھر پر عید پر

0
92
کیا بتائیں ہم تمھیں عالم میں کیا زینبؑ کا ہے
یہ نبوت یہ امامت یہ خدا زینبؑ کا ہے
جس گھڑی پہلے پہل میں خلق کو بھی خلق کیا
سر جھکا کے خلق نے کلمہ پڑھا زینبؑ کا ہے
کر رہی ہیں آیتیں یوں آبِ کوثر سے وضو
نام لکھنا ہے ابھی ان کو ذرا زینب کا ہے

0
93
یا علیؑ کے ورد سے باطن نکھرتے جائیں گے
دشمنِ آلِ علیؑ گھٹ گھٹ کے مرتے جائیں گے
حوصلہ دیتے رہیں گے حضرتِ میثمؑ ہمیں
ہم علیؑ والے علیؑ کی مدح کرتے جائیں گے
بم دھماکوں سے نہیں ہم ڈرنے والے ہیں کبھی
دم بدم؛ دم کربلا والوں کا بھرتے جائیں گے

0
120
مارا بے جرم و بے خطا اکبرؑ حسیؑنؑ کا
جلتی زمیں پہ ہے پڑا اکبرؑ حسینؑ کا
زانوئے شہ ع پہ رکھے ہیں سر ہاتھ سینے پر
چہرہ بھی زرد ہوتا ہے تن خون سے ہے تر
بابا کو بس ہے دیکھتا اکبرؑ حسینؑ کا
گیسو ہیں ڈوبے خون میں بکھرے ہیں چہرے پر

0
103
زینبِ مضطر حال پریشاں
دشتِ بلا میں وہ ہے ہراساں
حشر بپا ہے بر سرِ میداں
کس کو پکارے کون نگہباں
بھائی پڑا ہے خون میں غلطاں
شامِ غریباں شامِ غریباں

0
291
تھی یہ زینب کی صدا رن میں کہ آؤ عباسؑ
شمر سے بالی سکینہؑ کو بچاؤ عباسؑ
دیکھو وہ ظلم کو اب اور بڑھاتا ہے لعیں
لاڈلی بیٹی کو درے بھی لگاتا ہے لعیں
چیخ کر روتی ہے وہ رن میں بچاؤ عباسؑ
آگ دامن میں لگی رخ پہ طمانچے مارے

0
142
مقتل میں گھر ہے اسطرح اجڑا حسینؑ کا
آباد پھر نہ ہو سکا کنبہ حسینؑ کا
بے سر پڑے ہیں لاشے ہوا دن بھی یوں تمام
اسباب سارا لٹ گیا روتے ہیں تشنہ کام
زندہ نہ کوئی ہے بچا مارے گئے امام
اہلِ حرم سے اٹھ گیا سایہ حسینؑ کا

0
142
ہے فاطمہ کے لال کا دلبر علی اکبرؑ
ہیں لاکھ زلیخا فدا تم پر علی اکبرؑ
تسبیح ترے نام کی پڑھتا ہے یہ امبر
مداح ترا خالقِ اکبر علی اکبرؑ
صائب زیدی۔

0
122
شر سے خدا کے دیں کو ہیں یہ بچانے والے
جتنے ہیں مصطفیﷺ کہ نوری گھرانے والے
ولیوں کے ہیں یہ والی ہے نام انکا عمراںؑ
قرآن سے بھی پہلے قرآں سنانے والے
یہ جانتے ہیں عمراںؑ اور جانتے ہیں مرسلﷺ
حیدرؑ خدا کے گھر میں ہیں جلد آنے والے

0
89
احمدﷺ کا دل و جان نگہبان علیؑ ہے
خالق نے کہا بولتا قرآن علیؑ ہے
عیسیٰؑ کا بھی موسیٰؑ کا بھی ارمان علیؑ ہے
نبیوںؑ کے بھی ہر درد کا درمان علیؑ ہے
دیتا ہے مزہ عشقِ ولا عشقِ خدا کا
ہر ایک حلالی کی یہ پہچان علیؑ ہے

0
92
جلتے خیمے سے جو زینب س نے پکارا عباس ع
سر سے ظالم نےہے چھینا میرا س پردہ عباس ع
شہ ع پہ خنجر تھا رواں تجھ ع کو صدا دیتی رہی
لوٹ کر ہائے تو دریا سے نہ آیا عباس ع
آگ دامن میں لگی رخ پہ طمانچے کھائے
کس قدر تجھ کو سکینہ نے بلایا عباس ع

1
187
غازی کو چوم چوم کے کہتے ہیں یہ حسین
ملتا ہے اس کو دیکھ کے بابا جو مجھ کو چین
شمس و قمر کےجیسےہیں دونوں ہی اسکے عین
روشن جبیں ہے بابا کے جیسے ہیں اسکے نین
شرماتا ہے مہتاب بھی اس نورِ قمر سے
روشن ہوا ہے جہاں بھی حیدر کے پسر سے۔

0
131
نوکِ سناں پہ سورہ جو پڑھتا سفر میں ہے
باطل ہے کون سب کو بتاتا سفر میں ہے
بیٹی علی کی ثانئ زہرا سفر میں ہے
بالوں سے کرتی چہرے کا پردہ سفر میں ہے
زخموں سے چور چور ہے سجادِ ناتواں
سارے بدن سے خون ٹپکتا سفر میں ہے

171
جب سکینہ س نے کہا دل سے لگالو بابا
کب سے مقتل میں کھڑی ہوں میں بلا لو بابا
شمر نے بال پکڑ کر مِرے پھینکا ہے مجھے
پیار کرکے مجھے گودی میں اٹھالو بابا
درمیاں لاشوں کے میں ڈھونڈ رہی ہوں تم کو
کتنی لاشوں پہ گری ہوں میں سنبھالو بابا

180
حیرت میں مہہ و مہر ہیں کسکا شباب ہے
نورِ خدا کے گھر میں حَسن کا گلاب ہے
چشم و چراغِ مجتبی و مرتضی کا ہے
قاسمؑ کا حُسن حُسنِ ولایت مآب ہے
کہتی ہے دھرتی گھوم کر ہر ایک سے یہی
حیدر ہیں بو تراب یہ چشمِ تراب ہے

0
111
زمیں سے آسمان تک غدیر ہی غدیر ہے
خدا کے دیں کو جو ملی وہ زندگی غدیر ہے
بلند ہاتھوں پر کیا رسولِ انبیاء نے جو
علی خدا کا ہاتھ ہے پکارتی غدیر ہے
مٹا رہی ہے آج جو خدا کے دیں سے ظلمتیں
قسم خدا کی دین کی وہ روشنی غدیر ہے

0
97
سجاد کو ظالم نے یوں خون رلایا ہے
عباس کی بہنوں کو دربار بلایا ہے
ہے طوق ایسا گردن سجاد کی ہے چھلنی
دُروں سے جسم سارا بیمار کا ہے زخمی
مظلوم کو کانٹوں پر ہر گام چلایا ہے
آئی ہیں رسن بستہ تطھیر کی شھزادی

0
79
خالی ہے پشت رن سے جو آیا ہے مرتجز
دل میں لئے حسین ع کا صدمہ ہے مرتجز
آنکھوں سے خوں کے آنسو بہاتا ہے مرتجز
سرور ع ہوئے شہید بتاتا ہے مرتجز
لپٹی سُموں سے بولی شہ دیں کی لاڈلی
بابا کو کس پا چھوڑ کے آیا ہے مرتجز

0
299
در در پھرایا لاشہ سفیرِ حسین ع کا
کوفے نے ساتھ چھوڑا سفیرِ حسین ع کا
خط جو لکھے تھے کوفیوں سبطِ رسول ع کو
پھر ساتھ کیوں ہے چھوڑا سفیرِ حسین ع کا
ھئے ھئے اکیلا رہ گیا شبیر ع کا اخی
کوفے میں دل ہے پھٹتا سفیرِ حسین ع کا

0
143
روکا گیا ہے اس لئے لشکر غدیر میں
تکمیلِ دیں کا دیکھ لیں منظر غدیر میں
نظروں میں حاجیوں کا سمندر غدیر میں
جن و ملک بھی رک گئے آکر غدیر میں
تاجِ ولا دیا ہے علی ع کو نبی ص نے آج
جو ہے سجا امام ع کے سر پر غدیر میں

0
188
ماں ساری رات اپنا قمر دیکھتی رہی
بیٹے کی زندگی کا سفر دیکھتی رہی
 لیلیٰ کی تھی دعا کہ سلامت رہے سدا
اکبر کا ہر وہ بیتا پہر دیکھتی رہی
دستِ پسر کو چوم کے آنسو نکل پڑے
ماں اپنی ہی دعا کا اثر دیکھتی رہی

0
117
زندانِ شام کے در و دیوار روتے ہیں
آواز سسکیوں کی سنی جان کھوتے ہیں
دل پاش پاش اہلِ حرم کے بھی ہوتے ہیں
اُمِ رباب کہتی ہیں رو کے حزینہ سے
ملنے ضرور آتے ہیں بابا سکینہ سے
زانوں پہ سر کو رکھ کہ چھپایا ہے چہرے کو

0
122
رو روکے بیاں کرتی تھی یہ فاطمہ صغرٰی
گھر آو خدارا
حجروں میں نظر آتا ہے ہر ایک کا سایہ
گھر آو خدارا
تنہا جو مجھے چھوڑ کے کربل میں بسے ہو
کیا بھول گئے ہو

616
ثقیل وقت ہے کیوں کوئی انتشار کرو
امامِ وقت کے آنے کا انتظار کرو
گرایا بنتِ نبی کا مزار سعودی نے
انھیں روانہ ذرا آکے سوئے نار کرو
شکم کو بھرتے ہو تم آتشِ جہنَم سے
عزا کے نام پہ ایسا نہ کاروبار کرو

0
124
فرشِ عزا پے ہوتی جو قائم نماز ہے
خالص عبادتوں کا یہ پوشیدہ راز ہے
روشن بھی زندگی کا جو رافع مقام ہے
ملبوس میرا خاکی حسینی طراز ہے
بغضِ علی میں تیرا تو جینا حرام ہے
ساری عبادتوں کا علی ہی جواز ہے

0
217
بابا کے جنازے پہ تھی زینب کی یہ فریاد
اماں کے بعد گھر بھی تھا تم سے ہی تو آباد
اک تیغِ جفا نے کیا ہم سب کو ہے برباد
آنکھیں تو ذرا کھولو، کرو پھر کوئی ارشاد
اکیسویں رمضان میں سرخی جو چھائی ہے
حیدر کے جنازے پر زینب جو آئی ہے

150
عرشِّ بریں کا مان ہے قُم کی زمین پر
مولا رضا کی جان ہے قُم کی زمین پر
فتوے عزاء پہ کہتے ہیں ان لوگو کیلئے
تلوار بے میان ہے قُم کی زمین پر
دینِ خدا کو بیچنے والوں کا ہے ہجوم
ہو بند جو دکان ہے قُم کی زمین پر

0
110
گستاخِ محمد کو شیطان کہا جائے
بد بخت امیہ ہے فی النار کیا جائے
سنت پہ عمل پیرا ہم فاتحِ خیبر کی
اس دور کے مرحب سےکھل کربھی لڑا جائے
کردارِ رسالت پر انگلی جو اٹھاتا ہے
سر تن سے جدا اسکا بر وقت کیا جائے

0
99
زمانے بھر کیلئے آج بھی چٹان ہیں ہم
سخنوران ہیں اردو ادب کی جان ہیں ہم
عزاء کے دشمنو! تم جان لو یہ اچھے سے
شہید ہونا وراثت تو اس کی شان ہیں ہم
زبان عشقِ علی میں کٹی جو دار پہ تھی
خدا کا شکر ہے رکھتے وہی زبان ہیں ہم

0
118
ہیں اسطرح سے مظھرِ ذاتِ خدا حسن
زہرا کا نور عین دلِ مرتضی حسن
عرش و زمیں پے نور ہےاُنکے ہی نور سے
آخر ہیں کائنات کے جو پیشوا حسن
ہےمل گئی نجات مجھے فرطِ غم سے آج
حیدر ہیں بابِ علم تو مشکل کشاء حسن

0
532
حمدِ خدا کے بعد بیاں مصطفٰے کا ہے
ولیوں میں کتنا نام علی مرتضیٰ کا ہے
زہرا بتول مرضیہ از را و طاہرہ
خیر النساء بھی خاص لقب فاطمہ کا ہے
القاب جن کے سید و سبطِ تقی زکی
مشہورِ دھر نام حسن مجتبی کا ہے

132
شمس و قمر بھی پاتے ہیں آلِ عبا کا نور
جلوہ فگن ہوا ہے زمیں پر رضا کا نور
عرشِ بریں سے اترا خدا کا جو ہے یہ نور
ہاتھوں پہ نجمہ لاتی ہیں نورِ خدا کا نور
زہرا علی و شبر و شبیر کی ہے زین
انوار سے ہی ان کے ہے جود و سخا کا نور

1899