| نسیمِ حق نے یہ نغمہ پڑھا ہے |
| غدیرِ خم کا میخانہ سجا ہے |
| ولا کا جام تھامے بولے سلماں |
| الگ سب سے الگ اسکا نشہ ہے |
| مقصر پی کے گرتا ہے زمیں پے |
| یہ کم پینے کی بھی دیکھو وجہ ہے |
| مَرا جاتا ہے سن کے خم کا خطبہ |
| حسد کی شیخ کو ملتی سزا ہے |
| نکالو جشن سے مُلا کو لوگو |
| خراب محفل کو کرنے پر تُلا ہے |
| پتہ چل جائے گا مرتے ہی واعظ |
| لحد میں آنے کو مولا میرا ہے |
| دعائے فاطمہ زہرا سے صائب |
| کشادہ رزق یہ تیرا ہوا ہے |
معلومات