ہم کیوں نہ کریں ماتم اے شاہِ زمن تیرا
تکبیر پڑھ کے خنجر امت نے ہے چلایا
شاہِ ہدا کا لاشہ کربل میں بے کفن ہے
ٹکڑوں میں بٹ گیا جو زہرا کا گلبدن ہے
مادر کی گود میں وہ حلقوم کو ہے کاٹا
غش میں پڑی ہے مادر اصغر کو ہے بلاتی
جھولا بھی جل گیا ہے جھولی ہوئی ہے خالی
ششماہ کے گلے کو تیرِ ستم سے چھیدا
عباس کا وہ لاشہ ٹانپوں سے روند ڈالا
شہ نے اُٹھایا لاشہ حصوں میں بٹ گیا تھا
خستہ وہ لاشہ شہ کے ہاتھوں میں آ نہ پایا
ہم شکلِ مصطفیٰ کے سینے میں لگا نیزہ
شہ نے لرزتے ہاتھوں سے نیزے کو نکالا
برچھی کے ساتھ نکلا اکبر کا ہے کلیجہ
چودہ برس کا قاسم شاہِ ہدا کا پیارا
ٹکڑے ہوا ہے رن میں شبر کا یہ دلارا
گھٹڑی میں رکھ کے لائے قاسم کا شاہ لاشہ
دل کا نگینہ شہ کا ہے نام بھی سکینہ
مارے طمانچے اسکو روتی رہی حزینہ
بابا مجھے بچا لو لب پر تھا یہ ہی نوحہ
اہلِ حرم کو شامی لے کر پھرے ہیں در در
راہوں میں بی بیوں کو مارے گئے ہیں پتھر
احمد کی بیٹیوں پر امت نے ظلم ڈھایا
عابد کی طوق کو جب صائب جو تھا نکالا
بیمار کے گلے سے نکلا تھا خوں کا دھارا
سجاد پڑھ رہے تھے رو روکے خوں یہ نوحہ۔

0
2