دل کو سنبھالو رب کے یہ مظہرؑ کی عید ہے
عیدِ غدیر خالقِ اکبر کی عید ہے
تھامے ہوئے جو دیکھا نبیؐ کو علیؑ کا ہاتھ
کم ظرف مر رہے تھے کہ بہتر کی عید ہے
مخبر تھے جتنے اور دلوں میں چھپا تھا بغض
منہ کو بنا کہ کہتے ہیں حیدرؑ کی عید ہے
بڑ بڑ جو کر رہے تھا وہاں پے ذلیل لوگ
کھسیا کے بولے جی جی پیمبرؐ کی عید ہے
سوئے علیؑ ہیں مرضئ داور خرید کے
ہجرت کی رات دیکھو یہ بستر کی عید ہے
میدانِ خم میں قنبر و سلمانِ فارسی
مقداد و اشتر اور ابو ذر کی عید ہے
اس ہی غدیر کے سبب دل میں لگی تھی آگ
جنگِ جمل میں بجھ گئی لشکر کی عید ہے
مائیں بھی جنکی رکھتی ہیں دل میں علیؑ کی حب
ایسے حلال زادوں کی مادر کی عید ہے
صائب سنو یہ اہلِ جناں کہہ رہے ہیں آج
مولا علیؑ کی ساقئِ کوثرؑ کی عید ہے۔

0
1