| ظاہرہوئی خدا کی مشیت غدیر میں |
| طاہر دلوں کی ہوگی عبادت غدیر میں |
| الحمد ہو کہ سورۂ یا سین ہو کہ ناس |
| بڑھنے لگی ہے سبکی فضیلت غدیر میں |
| تقسیم رزق کرتا ہے جو دو جہان کا |
| ہوتی عیاں ہے آج وہ قدرت غدیر میں |
| ہے مسئلہ علی کی ولایت کا اس لئے |
| تیور بدل کے اتری ہے آیت غدیر میں |
| سیراب کر رہی ہے ولا کی ہمیں شراب |
| عشقِ علی بڑھاتا یہ لذت غدیر میں |
| حیدرؑ کو جس گھڑی کہا مولا رسولؐ نے |
| دیکھی بدلتی شیخوں کی رنگت غدیر میں |
| یہ اور بات چہرے حسد میں اتر گئے |
| بد ذات کر نہ پائے شرارت غدیر میں |
| کچھ آستیں کے سانپ پکارے یہ ایک ساتھ |
| لو لٹ گئی ہے ساری سیاست غدیر میں |
| حیدر سے بغض اور عداوت کا ہے صلہ |
| حارث کو رب نے کر دیا غارت غدیر میں |
| ٹکڑے کلیجہ ہو گیا حاسد کا بغض میں |
| تیغِ ولا سے ہوتی ہلاکت غدیر میں |
| زندہ وہ لاش بن گئے کونے میں لو جناب |
| کوئی اُٹھا لے ان کی یہ میت غدیر میں |
| کچھ مل سکا نہ شیخ کو لعنت ملی ہے بس |
| حیدر کو دیکھو ملتی ولایت غدیر میں |
| ذکرِ علیؑ سے ملُا کے کیونکر لگی ہے آگ |
| کیونکہ ملی نہ ابا کو عزت غدیر میں |
| صائب کو لوگ ٹھیک سے پہنچانتے نہ تھے |
| لکھ کر قصیدہ مل گئی شہرت غدیر میں۔ |
معلومات