زہراؑ کے لاشے پر یہ کہتے تھے رو کے سرورؑ
اٹھو نا میری مادر
کیوں بولتی نہیں ہو دل پر ہے چلتا خنجر
اٹھو نا میری مادر
بابا یہ کہہ دیں ماں سے اٹھ کر مجھے بلا لیں
سینے مجھے لگا لیں
دیتا ہوں میں صدائیں سنتی نہیں ہیں کیونکر
اٹھو نا میری مادر
روتا تھا جب کبھی میں کرتی تھیں پیار تم تو
کرتیں نثار خود کو
اب خود کو کر رہا ہوں اماں نثار تم پر
اٹھو نا میری مادر
اماں یوں کمسنی میں تنہا نہ ہم کو چھوڑو
ایسے نہ منہ کو موڑو
نانا کا واسطہ ہے آنکھیں بھی کھولو اُٹھ کر
اٹھو نا میری مادر
ماتم بپا ہے گھر میں بچوں پہ غش ہے طاری
کرتے ہیں آہ و زاری
قدموں پہ سر وہ رکھ کر کہتے ہیں یہ برابر
اٹھو نا میری مادر
نانا کا ذکر اماں ہم سے کرو دوبارہ
روٹھو نہ یوں خدارا
نظروں میں گھومتا ہے بیت الحزن کا منظر
اٹھو نا میری مادر
سانسیں بھی رک رہی ہیں منہ کو کلیجہ آیا
دیکھا تمھارا لاشہ
ہاتھوں کو جوڑ کر یہ کہتے ہیں رو کے مضطر
اٹھو نا میری مادر
صائب کفن کو تھامے زہراؑ کے ہیں دلارے
احمدؐ کے دل کے تارے
پھٹتا ہے دل یہ میرا نوحہ یہ ان کا سن کر
اٹھو نا میری مادر۔

0
2