علیؑ کے چاہنے والوں کا ایک نعرہ ہے
خلیفہ تیرے ہیں مولا علیؑ ہمارا ہے
نہ پوچھ ہم سے نبیؑ و علیؑ کے رشتے کو
خدا نے نُور کو دو حصوں میں اتارا ہے
چلا تھا عرش سے کرتا ہوا طواف بھی وہ
خدا نے بھیجا جسے وہ علیؑ ستارہ ہے
علیؑ کو چھوڑو جی سلمانؑ کا ہی علم لے لو
علیؑ کے علم کا ادنی سا یہ کنارہ ہے
ہے نسخہ خاص بھی شجرہ بتاتا ہے سب کا
عمل وہ حیدرِِؑ کرار کا ہی نعرہ ہے
جریؑ ہے منتظر آ جائے منتقمؑ جلدی
جواب دینا یزیدوں کو بھی کرارا ہے
عبادتوں کا ہے محور خدا کا مظہر ہے
بنا علیؑ کے نمازوں میں تو خسارہ ہے
سبب نہ پوچھو یہ حبِِّ علیؑ کا ہم سے جناب
ازل سے روح نے میری علیؑ پکارا ہے
بلاوجہ جو لگاتا ہے فتوے غالی کے
عمل بتاتا ہے تو تُو حسد کا مارا ہے
خدا کے دیں پہ کڑا وقت آیا تھا اس دم
بچا کے کفر سے زینبؑ نے پھر سنوارا ہے
امامِؑ وقت کا صائب کے سر پہ ہے سایہ
جبھی تو زیست میں لوگو میری سویرا ہے۔

0
1