جہاں میں گونجتی صدا حسینؑ سا کوئی نہیں
خدا کے جیسا دوسرا حسینؑ سا کوئی نہیں
ملے تھے جس گھڑی اُسے یہ بال و پر بھی نور کے
ملک نے سب سے یہ کہا حسینؑ سا کوئی نہیں
لہو کی دھار سے یزیدیوں کے سر اڑا دیئے
ہر ایک فرد کہہ اٹھا حسینؑ سا کوئی نہیں
یہ راضیہ و مرضیہ کی آرہی ہے کیوں صدا
احد یہ دے رہا ندا حسین سا کوئی نہیں
شرابیوں کا سرغنہ یزید بن معاویہ
طہارتوں کا سلسلہ حسینؑ سا کوئی نہیں
ہیں پانی کی فضیلتیں جہاں میں جا بجا بہت
بنا دے خاک جو شفا حسینؑ سا کوئی نہیں
سناں پہ جب کلامِ حق سنا نبی نے یہ کہا
خدا کے دیں کا نا خدا حسینؑ سا کوئی نہیں
درِ حسینؑ سے ملی حیات صائب آپ کو
کہے نہ وہ یہ کیوں بھلا حسینؑ سا کوئی نہیں

0
5