جو حرؑ کو حق کا راستہ دکھا دیا حسینؑ نے
بجھا ہوا تھا اک دیا جلا دیا حسینؑ نے
نماز میں حسینؑ میں تلاش فرق مت کرو
یہ فرق بچپنے میں ہی مٹا دیا حسینؑ نے
بتاؤں آج میں تمھیں کہ کس نے تم کو کیا دیا
شراب دی یزید نے خدا دیا حسینؑ نے
ہیں دے رہے یہ ماتمی جو خوں کا پرسہ جا بجا
سلیقہ ان کو جینے کا سکھا دیا حسینؑ نے
بتاؤں کیسے ماتمی کے زخم ٹھیک ہوگئے
دعائیں دیں بتول نے صلہ دیا حسینؑ نے
جگہ جگہ گلی گلی ہے ماتمِ حسینؑ ہے
جہاں میں دیکھو اس قدر بڑھا دیا حسینؑ نے
نجاستوں کی پیدا ہیں یہ مولوی یہ فتوی گر
مگر انہی کے فتووں کو اڑا دیا حسینؑ نے
کرو کرو علیؑ علیؑ جناں میں بھی لکھا علیؑ
سبق یہ ایسا جان لو پڑھا دیا حسینؑ نے
علیؑ کو چھوڑ کے یہاں جو آگیا ہے مولوی
عزا کے فرش سے اُسے اٹھا دیا حسینؑ نے
علیؑ نے علم کر دیا کُشادہ صائب آپ کا
عزا کا شاعر اس لئے بنا دیا حسینؑ نے۔

0
3