| کہا حسینؑ نے دل پر لکھا سکینہؑ ہے |
| بھلا یہ کیوں نہ ہو نورِ خدا سکینہؑ ہے |
| حیات ہے یہ مری اور ہے یہ جان مری |
| نمازِ شب میں جو مانگی دعا سکینہؑ ہے |
| نگاہیں بیٹی سے ہٹتی نہیں ہیں اُسکا سبب |
| کہ جس کو ماں کا ہے چہرہ ملا سکینہؑ ہے |
| اُتارا سینے پہ قرآں کی طرح سے اِن کو |
| جبھی تو نام بھی رَکھا گیا سکینہؑ ہے |
| نظر سے دور بھی جانے دیا نہ اک پل کو |
| زباں پہ شاہ کہ ہر دم رہا سکینہؑ ہے |
| دلِ بتولؑ سے آتی صدا ہے یہ لوگو |
| اکیلا نام ہی کرب و بلا سکینہؑ ہے |
| نجات درد سے مل جاتی ہے یوں صائب کو |
| وہ ایک بار ہی کہتا جو یا سکینہؑ ہے |
معلومات