جنازے پر علیؑ کے غمزدہ زینبِؑ کا ہے نوحہ
نہ جاؤ چھوڑ کے بابا
ابھی کچھ دیر پہلے ہی پکارا نام تھا میرا
نہ جاؤ چھوڑ کے بابا
کہا تھا کل ہی تو مجھ سے نہ گھبراؤ مری بیٹی
یہ رو رو کر ہے بولی
تمہارا سایہ اُٹّھا تو نہیں ہے لطف جینے کا
نہ جاؤ چھوڑ کے بابا
یہ خاموشی میرے دل پر چلاتی ہے بڑےخنجر
پکارو بیٹی پھر کہہ کر
ابھی کرنی ہیں باتیں تم سے کیسا ہے یہ سنّا ٹا
نہ جاؤ چھوڑ کے بابا
پدر سے بیٹیوں کو آس ہوتی ہے بہت ساری
میں تم پر ہوتی ہوں واری
اٹھو سینے سے پھر مجھ کو لگا لو اے میرے بابا
نہ جاؤ چھوڑ کے بابا
ذرا آنکھیں تو کھولو دیکھو روتی ہے بہت زینبؑ
تڑپتی ہے بہت زینبؑ
کفن میں دیکھ کے تم کو میرا دل خون ہے روتا
نہ جاؤ چھوڑ کے بابا
کفن کو تھام کر بولیں مجھے بھی ساتھ لے جاؤ
نہ منھ یوں موڑ کے جاؤ
سہارا ہے بڑا تم سے نہیں چھوڑو مجھے تنہا
نہ جاؤ چھوڑ کے بابا
حسنؑ بھیا ہٹا دو تم کفن بابا کے چہرے سے
میں دیکھوں چہرہ جی بھر کے
تڑپ کے چہرہ دیکھا پھر جبیں کو کہہ کے یہ چوما
نہ جاؤ چھوڑ کے بابا
گری ہے خاک پر صائب علیؑ کی لاڈلی بیٹی
صدا بابا کو دیتی تھی
جنازہ نکلا تھا گھر سے تو زینبؑ کے لبوں پر تھا
نہ جاؤ چھوڑ کے بابا۔

0
3