| خدا کہتا ہے جبریلِؑ امیں سے |
| نبیؐ جا کر ملیں میرے مکیں سے |
| یہ بیتِ کبریا نے کھل کھلا کر |
| کہا آئے علیؑ عرشِ بریں سے |
| ملک اس درجہ آئے دید کو پھر |
| فلک ملنے لگا جھک کر زمیں سے |
| عجائب کا ہےمظہر جانِ احمدؐ |
| جھلکتا ہے یہ مولاؑ کی جبیں سے |
| اٹھا کے گود میں بولے پیمبرؐ |
| ولیؑ مانو اِسے پورے یقیں سے |
| علیؑ کے نام کی تسبیح پڑھے جو |
| کریں وہ گفتگو یوں مرسلیں سے |
| سمندر کا تلاطم اور لہریں |
| علیؑ مولا ہیں کہتی مومنیں سے |
| لقب سنتے تھے مولاؑ کے وہ جب بھی |
| زمیں پر گر پڑے گھوڑے کی زیں سے |
| جو لعنت بھیجی ہم نے چہرے بولے |
| کہ شجرہ کس کا ملتا ہے لعیں سے |
| تبرا تم کرو ان پر اے لوگو |
| عداوت رکھے جو مولائے دیں سے |
| علی کے اعدا سے دوری ہے ورنہ |
| نکلتے سانپ ہیں یہ آستیں سے |
| علی سے بغض ہے تو سن لے واعظ |
| نکل جائے گا لازم تُو تو دیں سے |
| ستاتی ہیں ہمیں بیگم کی یادیں |
| یہ کہہ کر شیخ بھاگے ہیں وہیں سے |
| نکالیں گے وہ نقص اب بے وجہ کے |
| بچالے کبریا اِن اہلِ کیں سے |
| زمانے کی ہمیں کیا فکر صائب |
| ملا سب کچھ نبی کے جانشیں سے۔ |
معلومات