ہر زخمِ رسن کُرتے سے چپکا ہے سکینہؑ
رخ تیرا طمانچوں سے بھی سوجا ہے سکینہؑ
آنسو ہیں رواں کہتی پھوپھی جان تمھاری
معصوم ہنسی کو تیری ترسی ہوں میں پیاری
بند آنکھوں پہ یہ دل مرا پھٹتا ہے سکینہؑ
گوہر کو تیرے کانوں سے کھینچا گیا بیٹا
کانوں کی لبیں پھٹ گئیں خوں تیرا بہایا
رونے پہ تجھ کو شمر نے مارا ہے سکینہؑ
جس روز سے بچھڑے ہیں پدر کہتی تھی رو کر
بابا کا سینہ لا دو کہ سو جاؤں میں پل بھر
زینب نے کہا خاک پہ سونا ہے سکینہؑ
سجاد سے اٹھتا نہیں لاشہ یہ تمھارا
پہلو ہے شکستہ تیرا رو کر ہے پکارا
عباس کو رو کے وہ بلاتا ہے سکینہؑ
بینائی گئی خاک پہ گرتی رہی بچی
دیواروں سے ٹکرا کے وہیں مر گئی بچی
زندان تمھیں آج بھی روتا ہے سکینہؑ
لرزی ہے زمیں عرش پہ لرزا ہے برابر
سجاد نے نوحہ یوں پڑھا خاک پہ گر کر
اٹھو کہ مدینہ ہمیں جانا ہے سکینہؑ
کہرام مچا دیکھ کہ صائب وہ جنازہ
بچی کا کفن ہائے وہ کُرتے کو بنانا
غم تیرا زمانے کو رُلاتا ہے سکینہ۔

0
1