نعرہ علیؑ ولی کا لگاؤ غدیر ہے
جشنِ ولا میں مومنو آؤ غدیر ہے
گھر میں ہیں آئے سارے علیؑ کے موالی آج
میٹھا سبھی کا منھ بھی کراؤ غدیر ہے
نامِ علیؑ سے جلکے جو ہونے لگے کباب
پڑھ کر تبرہ اسکو جلاؤ غدیر ہے
مولا علیؑ سے جن کو عداوت ہے مومنو
سر انکے لعنتوں سے اڑاؤ غدیر ہے
کہتے ہیں شیخ دھوپ جلاتی ہے جسم کو
ڈنڈے لگا کے ہوش میں لاؤ غدیر ہے
سارے مقصروں کو تبرے سے مار دو
بم بھی تبرے کا گراؤ غدیر ہے
چھالے مقصروں کی زبانوں کے پھوٹے ہیں
کہتے ہیں آ کے جشن مناؤ غدیر ہے
مارا تھا کس کو گھونسا تمہارے رسول نے
عورت ہے کون سی وہ بتاؤ غدیر ہے
پروانے مرتضیؑ کے ہیں الجھو نہ شیخ جی
حارث کا حال دیکھنے جاؤ غدیر ہے
صائب سے عرش وفرش کی باتیں کرو نہُ تم
پھر سے قصیدہ پڑھ کے سناؤ غدیر ہے

0
1