| قاسمؑ کے نام سے یہ محفل سجی ہوئی ہے |
| قوس و قزح قصیدہ ان کا ہی پڑھ رہی ہے |
| آغوش میں حسنؑ کے قرآن کی ہے آیت |
| انوارِ کبریا کی یعنی کلی کھلی ہے |
| روشن جبیں ہے انکی بلکل ہی دادا جیسی |
| تیور بتا رہے ہیں خونِ علیؑ ولی ہے |
| قاسمؑ کے نین چومے مولا حسینؑ بولے |
| اس میں تو بھیا میری یہ جان بس رہی ہے |
| زینبؑ پکاریں لاؤ نظروں سے بھی بچاؤ |
| کیونکہ بھتیجوں میں میری جان یہ بسی ہے |
| ہاتھوں کو جوڑ کر یہ کہنے لگی ہیں فضؑہ |
| صدقے میں چاند ان سے پاتا یہ چاندنی ہے |
| عباس نے کیا ہے تیار ان کو ایسا |
| حملے سے جان سبکی حلقوم پر رکی ہے |
| کفار کہہ رہے ہیں لڑتا ہے کیسا بچہ |
| عباس کا ہے شاگرد جب ہی تو یہ جری ہے |
| ہم شکلِ مصطفیٰؑ نے ہم شکلِ مجتبیؑ کو |
| سینے لگا کے بولے میری یہ زندگی ہے |
| صائب تیرا قصیدہ سن کر یہ بولے قاسمؑ |
| دیتا ہوں علم تجھ کو ایسی یہ شاعری ہے۔ |
معلومات