| درِ خدا پر علیؑ ہی ہونگے |
| رخِ پیمبرؑ علیؑ ہی ہونگے |
| رجب کی تیرہ سِوائے منکر |
| سبھی کے لب پر علیؑ ہی ہونگے |
| دلیل اس کی حدیثِ قدسی |
| وہ نورِ پیکر علیؑ ہی ہونگے |
| ہے نقطۂ با میں دیکھ قرآں |
| تُو غور تو کر علی ہی ہونگے |
| رسولؑ معراج میں یہ بولے |
| ارے یہاں پر علیؑ ہی ہونگے |
| وہ فاتح خیبر اور خندق |
| وہ دیں کے پیکر علیؑ ہی ہونگے |
| ملی ہے کس کو احد میں تلوار |
| وہ جوہرِ داور علیؑ ہی ہونگے |
| جریؑ کو دیکھے وغا میں اعدا |
| پکارے رو کر علیؑ ہی ہونگے |
| ملی ہے حرؑ کو نجات ایسے |
| کہ انکے رہبر علیؑ ہی ہونگے |
| بنالے مولاؑ تو جس کسی کو |
| لحد کے اندر علیؑ ہی ہونگے |
| موالیانِ علیؑ کو کیا ڈر |
| بہ روزِ محشر علیؑ ہی ہونگے |
| جناں میں کیسے تو جائیگا شیخ |
| صراطِ پُل پر علیؑ ہی ہونگے |
| منافقوں کے کٹے سروں پے |
| صدا تھی لب پر علیؑ ہی ہونگے |
| یہ کہتے طحہ سے آج صائب |
| لبوں پہ حیدرؑ علیؑ ہی ہونگے۔ |
معلومات