حسینؑ کی ہے سدا آج بھی میں تنہا ہوں
لہو کو میرے نہ بیچو یہ ہی میں کہتا ہوں
لگاتے قیمتیں شامی تھے میرے سر کی وہاں
عزا کو تم نے بنایا ہے کاروبار یہاں
یہ دیکھ دیکھ کہ میں اب بھی خون روتا ہوں
سجا کے طشت میں بیچا گیا تھا انگلی کو
اُسی طرح سے یہ مجلس کا پیسہ لیتے ہو
یہ کام ایک ہے تم کو میں یہ بتاتا ہوں
حَرم کے سامنے میری عبا کو ہے بیچا
طریقہ بدلہ ہے تم نے عزا کو ہے بیچا
عمل یہ دیکھ کہ افسوس تم پہ کرتا ہوں
سکینہ بی بی کو شمر نے طمانچے ہیں مارے
تڑپ کہ روتی ہے ہنستے ہیں وہ لعیں سارے
صدائیں بابا کی سن سن کہ میں تڑپتا ہوں
حرم کو مارے ہیں درے بھی اور پتھر بھی
ردائیں چھین کے ان کو پھرایا در در بھی
ستم وہ دیکھ کے نیزے سے خون روتا ہوں
سناں کو سینے سے اکبرؑ کہ جب نکالا تھا
وہ نورِ عین میرا خاک پہ تڑپتا تھا
کلیجہ ہاتھوں میں تھامے ہوا وہ بیٹھا ہوں
زمیں سے لاشہ نکالا ہے میرے اصغرؑ کا
وہ الجھا نیزے میں ننھا سا لاشہ دلبرؑ کا
وہیں پہ نیزے سے گرتا ہوا میں دیکھتا ہوں
سنیں گے لوگ یہ نوحہ تمھارا اے صائب
عزا کے فرش پہ ماتم بھی ہوگا اے صائب
ضرور خون کا پرسہ بھی دیں گے کہتا ہوں۔

0
1