اکبرؑ جواں کی لاش پہ مادر کے ہیں یہ بین
ڈوبا ہے خوں میں مارا گیا میرا نورِ عین
اٹھو اے بیٹا دیتی صدائیں ہیں تجھ کو ماں
شانہ ہلا کے بیٹے کا کہتی ہے رو رو ماں
اے لال کچھ تو بولو ملے دل کو میرے چین
اے لال تو ہے بابا کا اور میرا لاڈلہ
ناراض ہو تو ماں سے کہو کیا ہے ماجرا
سن کر یہ بین خیمے میں ہوتا ہے شور وشین
منھ چوم کے وہ بیٹے کا سینے پہ گر پڑی
سینے کا زخم دیکھا تو دل ڈھونڈنے لگی
بولی کلیجہ ہے کہاں اے شاہِ مشرقینؑ
لختِ جگر کو میرے جوانی یہ کھا گئی
شادی کے دن تھے بیٹا تجھے موت آ گئی
صغریٰؑ کو کیا بتاؤں گی بولو نا نورِ عین
حرکت نہیں ہے جسم میں کرتا نہیں کلام
پانی پلاؤ آنکھوں کو کھولے گا تشنا کام
اکبرؑ کو سوتا دیکھ کے روتے ہیں کیوں حسینؑ
ٹکڑے جگر یہ ہوتا ہے اے میرے نو نہال
تنہا نہ چھوڑو کر لو ضعیفی کا کچھ خیال
حسرت سے چومے بیٹے کے مادر نے رو کے نین
خوں میں ہیں ڈوبے گیسو تو چہرہ ہے خوں بھرا
سہرا کہاں میں باندھوں بتا دو کوئی ذرا
دولھا بناؤں کیسے تجھے بول دل کے چین
صائب یہ پیری اور وہ اکبر جواں کی لاش
بیٹے کی میت پہ ہے دلِ شاہ پاش پاش
آنکھوں کا نور کھو گیا کہتے ہیں یہ حسینؑ۔

0
1