جگر کو تھام کے جب حال دیکھا اکبرؑ کا
اَنی کے ساتھ میں نکلا کلیجہ اکبرؑ کا
انَی جو کھینچی تو خوں آیا چہرے پر شہؑ کے
تڑپ کے رہ گئے دیکھا ہے چہرہ اکبرؑ کا
خدا یہ میری ضعیفی کا تھا سہارا جواں
ستم کے نیزے نے چھیدا ہے سینہ اکبرؑ کا
زمینِ کرب و بلا پر ہے پھیلا خونِ پسر
بھرا تھا زخموں سے وہ جسم سارا اکبرؑ کا
دلہن بیاہ کہ لیلیٰؑ نہ گھر میں لا پائی
بنے ہیں خوں بھرے گیسو یہ سہرا اکبرؑ کا
جو خط ہے آیا کہو کیا جواب دوں اسکا
یہ کہہ کہ نام ہے رو کر پکارا اکبرؑ کا
جو اگلا خون دہن سے تو دیکھ کر روئے
وہ ہچکی لینا وہ سانسیں اکھڑنا اکبرؑ کا
گلے پہ وار ہے ایسا کہ بول بھی نہ سکے
لبوں پہ آہ تھی اور دم تھا نکلا اکبرؑ کا
جوان شاہ کا دنیا سے ہوچکا رخصت
ہے لایا قاصدِ صغریٰؑ بلاوا اکبرؑ کا
تڑپ کے غازیؑ کو شہِ نے پکارا ہے صائب
اٹھاؤں کیسے بتا دو یہ لاشہ اکبرؑ کا.

0
1