| خلقِ خدا سے سب نے یہ بھی صدا سنی تھی |
| دعبل بھی خندہ زن تھے بزمِ ولا سجی تھی |
| سوچوں سے بھی ہے بالا وسعت تمھاری دعبل |
| حق پر گزاری تم نے ساری جو زندگی تھی |
| کرتی بھی کس طرح سے گمراہ اس کو دنیا |
| دل میں علیؑ تھے لب پر مدحت سجی ہوئی تھی |
| کرنی ہے دل سے نصرت آلِ نبیؑ کی ہر جا |
| یہ تربیت لہو میں ان کے رچی بسی تھی |
| الفت میں کربلا کی ایسے کلام لکھے |
| ظالم بھی کانپتے تھے ایسی وہ شاعری تھی |
| مشکل پڑی ہو جتنی ڈرتے نہ تھے کسی سے |
| ظلم و ستم سے نفرت دل میں بسی ہوئی تھی |
| صائب جناب دیکھو اسباب کھل گئے ہیں |
| لمحوں میں یہ لگے گا وہ بات کل ہی کی تھی |
معلومات