Circle Image

محمدشاہدعلی صابری

@s96ali

کرم ہم پہ شاہدؔ ہے اہلِ نظر کا

جسمِ صندلیں کی چاہ
اک بتِ حسیں کی چاہ
دل نہال رکھتی ہے
حسنِ آفریں کی چاہ
اپنا دین ہے شاہدؔ
ایک مہ جبیں کی چاہ

0
1
فکرِ بے یقیں تھم جا
ہے جہاں وہیں تھم جا
دیکھتی ہے تو کیا کیا
چشمِ پیش بیں تھم جا
داستانِ غم مت پوچھ
دیکھ ہم نشیں تھم جا

0
6
حق تعالیٰ اُن پہ رحمت کرتے ہیں
مصطفیؐ سے جو مَحَبَّت کرتے ہیں
جان میں پیدا حلاوت کرتے ہیں
سبز گنبد کی زیارت کرتے ہیں
ہم یہاں سے اب نہ جائیں گے کہیں
آ کے طیبہ میں یہ نِیَّت کرتے ہیں

0
12
چھیڑ کر مَنْ کُنْتُ مولا کا بَیاں
ناصِبِیَّت پر قَیامَت کرتے ہیں

0
4
اپنی بخشش کا یہی سامان ہے
ہم علی مولا سے الفت رکھتے ہیں
بھول جائیں وہ خدا کی رحمتیں
مرتضیؑ سے جو عَداوَت رکھتے ہیں

0
6
عَطائے مُرتضیٰؑ ہیں حضرتِ واصف علی واصفؒ
اِمامِ با صَفا ہیں حضرتِ واصف علی واصفؒ
علیؑ کا فیض ہر دم ہے‚ جو باتِ اِن کی مُکرم ہے
سٙلونی کی صٙدا ہیں حضرتِ واصف علی واصفؒ
جو صحرائے جہالت کو بدل دے باغِ علمی مِیں
وٙہی موجِ صٙبا ہیں حضرتِ واصف علی واصفؒ

0
6
نیک ہے, مُہذب ہے, حق ہے سیرتِ عثمانؓ
حق دِلوں پہ ہی کُھلتی ہے حَقیقتِ عثمانؓ
اُونچی ہے بہت ہی اُونچی ہے رِفعتِ عثمانؓ
کیا بَیاں ہو گی ہم سے شان و شوکتِ عثمانؓ
کر رَہے تھے ابنِ حیدرؑ حفاظتِ عثمانؓ
کُل زَمانے نے دیکھی جاہ و حشمتِ عثمانؓ

0
5
تیرا رُتبہ اعلیٰ, تیری شان برتر, یا عُمرؓ
ہاتھ اُٹھا کر مانگتے ہیں خود پَیمبر, یا عُمرؓ
پھر ہوئی تبلیغِ دیں بے خوف ہو کر, یا عُمرؓ
جس گھڑی تُو دین کو آیا مُیَسَّر, یا عُمرؓ
اہلِ فِتنہ کے دِلوں پر تیغ و خنجر, یا عُمرؓ
حلقہِ کُفّار پر ہیبت کا منظر, یا عُمرؓ

0
3
خدا کا نور لایا ہے ربیع الاول آیا ہے
زمانہ جگمگایا ہے ربیع الاول آیا ہے
ولادت کا مہینہ ہے اُجالا ہی اُجالا ہے
سماں بھی مسکرایا ہے ربیع الاول آیا ہے
تری عظمت جدا سب سے فقط تو ہی ملا رب سے
ترے جیسا نہ پایا ہے ربیع الاول آیا ہے

0
15
اے کعبہِ ولایت اے مہربان داتا
اے منبعِ ہدایت اے مہربان داتا
اے راہِ حق کے رہبر اے جانشینِ حیدر
اے پیشوائے امت اے مہربان داتا
تجھ پر سلام پیہم دنیا سے کر دے بے غم
اے صاحبِ عنایت اے مہربان داتا

0
28
یہ رتبہ ہے بہت اونچا جنابِ فیضِ عالم کا
ہے عرفانِ خدا چہرہ جنابِ فیضِ عالم کا
خرد مند آپ کا رتبہ بیاں کر ہی نہیں سکتا
ورائے فہم ہے رتبہ جنابِ فیضِ عالم کا
خدا کی خاص رحمت ہے کہ اک نورِ حقیقت ہے
وجودِ پاک سر تا پا جنابِ فیضِ عالم کا

0
17
اَزل سے ہُوئی یہ حَقیقت مُسَلَّم
تُمی جانِ عالم, تُمی شاہِ عالم
تری ذات مقصودِ بزمِ فکاں ہے
تُمی سے ہے قائم دو عالم کا دم خم
رَواں ہے حَبیبِ خدا کا ہی سِکّہ
عَرب ہو عَجم ہو کہ پُورب کہ پَچَّھم

0
11
کَرم کی نَظر ہو رَسولِ مُعَظَّمؐ
خدا کے تُمی ہو حَبیبِ مُکَرَّمؐ
نہ کوثر کی خواہش نہ اَرْمانِ زم زم
پیاسے ہیں شاہاؐ! تِری دید کے ہم
محمدؐ محمدؐ پُکارو ہَمہ دم
یہی نام ٹوٹے دِلوں کا ہے مَرہَم

0
18
جن کی چاہت کی تھی میں نے دین و ایماں کی طرح
مجھ سے پیش آئے وہی انسان شیطاں کی طرح
ان سے بھی کرنا پڑا مجھ کو کنارہ ایک دن
جو مرے ہم راہ رہتے تھے دل و جاں کی طرح
پاس ہیں سنتے ہیں لیکن فائدہ کچھ بھی نہیں
آج کل رشتے ہوے ہیں جسمِ بے جاں کی طرح

0
44
رنگ اُس کے ہُوے ظاہِر سَبھی, سبحن اللہ
دو جہاں کے یہ مَناظِر سَبھی, سبحن اللہ
یہ مہکتے ہُوے گُلزار کہ اللہ اللہ
یہ چہکتے ہُوے طائِر سَبھی, سبحن اللہ
تیرا تو پھر ہے تصور تِرا اللہُ غنی
یہ تمہارے مُتَصَوِر سَبھی, سبحن اللہ

58
قریبِ مرگ ہُوں اب زندگی نصیب ہو جائے
مِرے حضور مجھے حاضری نصیب ہو جائے
بہ پیشِ روضہِ سرور خود اپنے آپ جُھکے سر
بہ وقتِ حاضری خود رفتگی نصیب ہو جائے
درِ نبی پہ مَیں جا کے یہ مانگتا ہُوں خدا سے
درِ علی کی مجھے نوکری نصیب ہو جائے

0
39
شاد ہوتے ہیں آسْتِیْں کے سانْپ
بڑھتے جاتے ہیں بُغْض و کِیْں کے سانْپ
کوئی تِرْیاق کام نہیں آتا
ڈسْتے ہیں جب "نَہیں نَہیں" کے سانْپ
زہر ایمان مِیں بھی گھولتِیں ہیں
سِلْوَٹیں ہیں یہ, یا جَبیں کے سانْپ

0
105
مے گُسارو مِیں نے پایا ہے وہ رندانہِ دل
دیکھ کر جس کو دھڑکنے لگے پیمانہِ دل
قیدِ پابندیِ توبہ تو رَہا کچھ ہی روز
فصلِ گُل آنے سے پھر بہکا ہے رندانہِ دل
اِک نہ اِک دن تو بَنے گا یہ حَریمِ کعبہ
اور کچھ دیر ہے بُت خانہ مِرا خانہِ دل

0
79
شوق سے کیجیے خریداریِ دیوانہِ دل
اِک جَھلک ہے رُخِ مَہْتاب کی بیعانہِ دل
باعثِ راحت و تسکین ہے تیرا چہرہ
چین پاتا ہے تجھے دیکھ کے دیوانہِ دل
تیرا رُخ جانِ تمنا ہُوا مانندِ شمع
تیرے ہی طَوف مِیں رہتا ہے یہ پروانہِ دل

0
101
ہے جاں بَہ لب ایک غم کا مارا, شَہِ مَدینہؐ شَہِ مَدینہؐ
ہو جائے نَظّرِ کَرم خُدارا, شہِ مدینہؐ شہِ مدینہؐ
بہت سَتاتی ہے اُس کی فرقت, جو شہر ٹھہرا ہے رشکِ جنت
فِراق مِیں دل ہے پارہ پارہ, شَہِ مَدینہؐ شَہِ مَدینہؐ
حضورؐ مجھ کو سنبھالیے ناں, مِیں مر رَہا ہوں غمِ جَہاں سے
ہیں آپ ہی بس مِرا سَہارا, شَہِ مَدینہؐ شَہِ مَدینہؐ

0
94
نہیں جانا تھا مگر جاتا ہے
دل مِرا دشت سے گھر جاتا ہے
ہاں جنوں زاد کو محشر ہے یہی
ہاتھ سے ذوقِ سَفر جاتا ہے
ہائے اُس تیرِ نظر کے حملے
دل بچاؤں تو جگر جاتا ہے

0
100
وجہِ تخلیقِ دو جہاں شاہا
تم ہو مَقصُودِ کُن فَکاں شاہا
تیرے سر تاج ہے رسالت کا
تم ہو سلطانِ قدسیاں شاہا
تیری ذاتِ مقدسہ اعلی
تُو ہے قبلہ گہِ جہاں شاہا

0
75
رب کا جلوہ کوئی کہاں ہوا ہے
مصطفی سا کوئی کہاں ہوا ہے
اُن پہ اللہ بھیجتا ہے درود
اُن کے جیسا کوئی کہاں ہوا ہے
عالم اُن کے چمکنے سے چمکے
یوں مجلی کوئی کہاں ہوا ہے

0
67
گرمیِ حشر ہے گراں آقا
کیجئے لطف مہرباں آقا
تُل رَہے ہیں تَرازُو پر اَعْمال
تم کو تکتے ہیں غَم کَشاں آقا
ہاں یہی وقت ہے شفاعت کا
کم ہیں دفتر مِیں نیکیاں آقا

0
148
جس زندگی مِیں علیؑ نہیں ہے
وہ زندگی, زندگی نہیں ہے
ذکرِ حیدر سے بھاگتے ہو
کیا یہ بھی خودکشی نہیں ہے
رکھیے حضرت علی سے الفت
کیا یہ حکمِ نبی نہیں ہے

0
105
بادشاہِ بندگانِ کبریا کوئی نہیں
جلوہِ حق تاجدارِ ہل اتی کوئی نہیں
مرتضی کوئی نہیں شیرِ خدا کوئی نہیں
تیرے جیسا اس زمانے میں شہا کوئی نہیں
دو جہاں میں دیکھا ہے مشکل کشا کوئی نہیں
جز علی مولا کے اپنا آسرا کوئی نہیں

0
78
تَبَسُّم پھول کی صورت تَکَلُّم تھا گُل اَفْشاں حال
اُسے دیکھا تو وہ ہم کو نظر آیا گُلِسْتاں حال
وہ سَرْو اَنْدام تھا شاہدؔ رُخ اُس کا تھا مہِ تاباں
مُوئے مِژَہ تھے سُن٘بُل اور جبیں تھی نُور اَفْشاں حال

0
92
یُونہی کچھ لَمْحے بیٹھا تھا تِری بزمِ اَثر مِیں
وَہیں دل کھو گیا میرا کہیں دِیوَار و دَر مِیں
یَہاں پر جو بھی آیا وہ ہُوا سَر مَسْت و سَرشار
کہ مستی کا عَجَب عالَم ہے واصِفؓ کے نَگَر مِیں
بَلَنْدی آسْماں کی پھر کَبھی مَیں دیکھ لوں گا
اَبھی تو مَحْو ہُوں مَیں تیری خاکِ رہگُزر مِیں

0
96
میرے مرنے کی اِشْتِہا ہے تُجھے
اور سِتم کی یہ اِبْتِدا ہے تُجھے؟
جان کے ساتھ دل دِیا ہے تُجھے
اب کے کس بات کا گِلہ ہے تجھے؟
اور بھی تو ہیں تیرے دیوانے
ظلم مجھ سے ہی کیوں رَوا ہے تُجھے؟

0
81
یہ محبت عجب خُماری ہے
ایک کے بعد ایک جاری ہے
بے نیازی بُتوں میں ہوتی ہے
اِن سے اظہارِ عشق خواری ہے
گو کہ عذر آنے سے ہے اُس کو مگر
پھر بھی دل اُس کا انتظاری ہے

0
94
یا محمد یا محمد یا کریم
میری للہ اِسْتِعانَت کیجئے
یا غنی و یا غیاث و یا قسیم
بے نواؤں پر عَطُوفَت کیجئے
یا نبی یا رحمتہ للعالمیں
جسم و جاں سے دور ہیبت کیجئے

0
126
کہتا ہوں دیوانِ غالب دیکھ کر
سب کے سب اشعار ہیں الہام کے

71
اِس وطن میں بولنے سے پہلے ہی
حُکم جاری ہوتے ہیں اِفْحام کے

0
60
وہ بھی رہ جاتے دِل اپنا تھام کے
اشک ہوتے میرے بھی کچھ کام کے
شاملِ خُو جان کر اَصْنام کے
لے رَہا ہُوں لُطْف مَیں دُشْنام کے
آ خبر لے میری اے عیسائے دم!
میں بھی دن دیکھوں کبھی آرام کے

0
118
رِسالت کا شَہْکار صدیقِ اکبرؓ
صَداقت کا مِعْیار صدیقِ اکبرؓ
اَنیسِ مُحمدؐ وہ ایماں مِیں جَیِّد
خُدا کا پَرَسْتار صدیقِ اکبرؓ
وہ صاحِب ہُوا ہے وَہی ثَانِىَ اثۡنَيۡن
کہیں جس کو سرکارؐ, صدیقِ اکبرؓ

0
337
دین و ایمان والے یارِ غارؓ
ہیں بڑی شان والے یارِ غارؓ
مصطفیؐ سے ملا ہے اُن کو لقب
سچ کے عنوان والے یارِ غارؓ
دینِ احمدؐ پہ سب کِیا قربان
خوب ایقان والے یارِ غارؓ

0
79
اللہ کا نور اُترا، جب ماہِ رجب آیا
چمکا ہے جَہاں سارا، جب ماہِ رجب آیا
ایمان ہوا تازہ، جب ماہِ رجب آیا
نغمہ خوشی کا گایا، جب ماہِ رجب آیا
حیدر کی ولادت کا حیدر کی سیادت کا
ہر سمت ہوا چرچا، جب ماہِ رجب آیا

0
69
تم نے انسان جو بہتریں دیکھے ہیں
مے کَدے کے علاوہ کہیں دیکھے ہیں؟
اہلِ دنیا نہ ہی اہلِ دیں دیکھے ہیں
ہم نے اُس بزم میں مہ جَبیں دیکھے ہیں
جانے وہ راہبر کیسا تھا, کون تھا
ہر قدم پر نشانِ جَبیں دیکھے ہیں

0
77
اور تو کوئی نہیں کام مجھے صَحْرا مِیں
نقشِ پا ڈھونڈ رہا ہوں کِسی کے, صَحْرا مِیں
تھا جَنوں, پاؤں رَکھے تپتے ہُوے صَحْرا مِیں
جستجو تیری تھی, سو آن بَسے صَحْرا مِیں
تاب ہم میں نہیں تھی قُربِ چَمن کی, سو ہم
زندگی بھر رَہے صحرا مِیں, مَرے صَحْرا مِیں

0
61
میں اِس جَہاں سے کَہِیں اُدھر رقص کر رَہا ہُوں
رِدا تَصَوُّر کی اَوڑْھ کر رقص کر رَہا ہُوں
تمہارا وحشی ہوں چین سے کیسے بیٹھ جاؤں؟
لَحَد میں بھی دیکھ! کس قَدر رقص کر رَہا ہُوں
تِرے لیے بے کِنار دنیا سے مَیں ہوا ہُوں
مِرے صنم دیکھ! لا تَذَر, رقص کر رَہا ہُوں

0
84
زندگی بھی عجب کہانی ہے
رائیگانی ہی رائیگانی ہے
کرتے روتابیِ محبت ہم
یہ بَلا لیکن آسمانی ہے
سب فنا ہو گا، سب فنا ہوں گے
بس محبت ہی جاودانی ہے

0
127
ایسے ہی وہ نہیں مِلا مجھ کو
کام آیا ہے رات کا رونا
کیوں مَرا جاتا ہے بغیر اُس کے
چھوڑ بھی دے یہ روز کا رونا
اُس نے پوچھا جو حالِ دل شاہدؔ
کہتا کیا؟ مجھ کو آ گیا رونا

0
64
اِس کی عمرِ تمام قیمت ہے
یہ محبت بھی کیا مصیبت ہے
دیکھ تو آج کتنے خوش ہیں رقیب
آج دنیا سے میری رخصت ہے

0
71
رنگِ مَحْرُومی
وہ خدا کی نظر سے گِرتا ہے
جو تِرے آستاں سے اُٹھتا ہے
سر وہ ہر ایک در پہ جُھکتا ہے
جو تِرے آستاں سے اُٹھتا ہے
موت کی کیفیت وہ جانتا ہے

0
52
رنگِ مَحبُوبی
اُس کا عالم پہ رنگ چڑھتا ہے
جو تِرے آستاں سے اُٹھتا ہے
نَظَر اہلِ نظر کو آتا ہے
جو تِرے آستاں سے اُٹھتا ہے
بار اَمانَت کا اُس کے سر پر ہے

0
77
وہ مجھے کرنے کو برباد آیا
ہائے ظالم ستم ایجاد آیا
آہ اُن نرم و ملائم لَبوں سے
ہر گھڑی ظلم کا ارشاد آیا
وقتِ آخر ہے مِرا او ظالم
تمہیں اب عہدِ وفا یاد آیا

0
131
مَلائکہ با اَدب جُھکے ہیں
سَلامی کو انبیاؑء کَھڑے ہیں
جَہان والوں کے غم مِٹے ہیں
نصیب سب کے چَمک اُٹھے ہیں
حضورؐ تشریف لا چُکے ہیں
کہیں پہ روشن مَحَل ہُوے ہیں

0
87
پھر دل ہوا ہے مضطرب, دیکھے مَہ و مہرِ عرب
پھر دل میں جاگی ہے تمنائے سُوئے شہرِ عرب
پھر نا رُکی پھر نا تَھمی, جو دارِ ارقم سے چَلی
سارے جہاں پر چھا گئی, ایسی تھی وہ لہرِ عرب
دنیا مجھے مجنوں کَہے, پروا نہیں کچھ بھی مجھے
اللہ! بس دل پر مِرے, چھایا رہے سِحْرِ عرب

0
73
اِسی لیے کہ ہو حاصل کمالِ عقل و شعور
خدا نے مجھ کو عنایت کی نسبتِ منظورؓ
اِنہیں کے ساتھ ہمیشہ جُڑے رہو شاہدؔ
لگائیں گے یہ تمہارا سفینہ پار ضرور

0
64
ماہ و خورشید بھی منہ اپنا چُھپا بیٹھے ہیں
آج وہ پردہِ صورت کو ہٹا بیٹھے ہیں
لوٹ پائیں گے اُنہیں کیا یہ تِرے عشوہ و ناز
پہلے ہی اپنے دل و جاں جو لُٹا بیٹھے ہیں
اُن کی مرضی وہ کریں یا نہ کریں چارہ گری
ہم اُنہیں دردِ شبِ ہجر سنا بیٹھے ہیں

0
58
کیا کیا بتاؤں میں نگاہِ پیر سے کیا کیا مِلا
قربِ خدا حاصل ہوا عشقِ شہِ والا مِلا

0
72
لاہور کے ہر کونے میں شمع جلانے دو
عرس آج ہے داتاؓ کا دُھونی کو رَمانے دو
شادی بھی رچانے دو نوبت بھی بجانے دو
داتاؓ کے غلاموں کو اب عید منانے دو
سرکارؐ نے آنا ہے محفل کو سجانے دو
یہ چشم و چراغ اونچے اور عالی گھرانے کا

0
100
ایک مَحْمِل دیکھتا رہ جاتا ہوں
خاکِ صحرا چھانتا رہ جاتا ہوں
کھیل یہ ہی کھیلتا رہ جاتا ہوں
نالہ شب بھر کھینچتا رہ جاتا ہوں
اُس کی یادوں سے مجھے فرصت نہیں
وقت خود سے مانگتا رہ جاتا ہوں

0
1
114
سب سَماں ہے نور و نور
ظلمتیں ہوتی ہیں دور
رحمتوں کا ہے ظُہُور
آج آئے ہیں حضورؐ
سب چَمن ہے شادماں
کِھل اُٹھی ہیں کلیاں

0
105
زمانہ ہو گیا پُرنور آ گئے ہیں حضورؐ
ہوئی ہے تیرگی بھی دور آ گئے ہیں حضورؐ
خوشی سے چہکی وہ بلبل, پھر آئی فصلِ گُل
خزاں چمن سے ہوئی دور آ گئے ہیں حضورؐ
اُتاری ہم پہ خدا نے بہت بڑی نعمت
خدا کے اِس پہ ہیں مشکور آ گئے ہیں حضورؐ

0
110
گر تِرا غم مِلا نہیں ہوتا
پاس میرے خدا نہیں ہوتا

65
اِک صنم دوسرا نہیں ہوتا
اور دنیا میں کیا نہیں ہوتا
اب کہ کچھ ایسی بے کسی ہے کہ اب
یوں لگے ہے خدا نہیں ہوتا
جو نہ لے جائے دار تک، ایسے
عشق میں کچھ مِزا نہیں ہوتا

83
مرضِ دل ہی دوا نہیں ہوتا
ورنہ دنیا میں کیا نہیں ہوتا
غیر سے لاکھ میں نے روکا، مگر
اَثَر اُس کو زرا نہیں ہوتا
ذکر اُس کا بہت کِیا پھر بھی
رنج راحت فزا نہیں ہوتا

0
104
جب تلک سر جُدا نہیں ہوتا
عشق کا حق اَدا نہیں ہوتا
بیت جاتِیں ہیں عشق میں عمریں
کوئی اِس سے رِہا نہیں ہوتا
گو کہ عشق آدمی نِگلتا ہے
یہ مگر اَڏْدَہا نہیں ہوتا

0
83
جنتِ رب العلیٰ مشتاق ہے جن چار کی
اُن میں ہے اِک ذاتِ اقدس حضرتِ عمّارؓ کی
ہڈیوں تک ہے بھرا ایمان اس کے جسم میں
مثل ایسی ہے کہیں ایمان کے معیار کی
مومنوں کے واسطے راہِ ہدایت بن گیا
دیکھیے عظمت شہیدِ حیدرِ کرار کی

0
243
پھر دورِ اُمیہ تازہ کر رہے ہیں یہ لوگ
پھر سے اِنہوں نے حیدرؑ پر اُنگلی اُٹھائی ہے
جن کے بڑے تیغ و خنجر سے نہیں لڑ پائے
اولاد اب اُن کی مصرعوں پر اُتر آئی ہے
یہ بغضِ علیؑ کے جو مارے ہوے ہیں شاہدؔ
ہر ایک فتن کی بُُو اِن ہی میں سمائی ہے

0
63
منبعِ دین ہے شبِ عاشور
ایک آئین ہے شبِ عاشور
چشمِ احمدؑ سے اشک بہنا بھی
غم کی تلقین ہے، شبِ عاشور
آسماں سرخ، ماہ و نجم اُداس
کتنی غمگین ہے، شبِ عاشور

0
93
آ جاؤ رفتہ رفتہ بَہارانِ خُلد تک
رستہ ہے کربلا سے گُلستانِ خُلد تک
آئے حُسینؑ، سج گیا میدانِ کربلا
غازیؑ بنے ہیں قوتِ فرزندِ مصطفیؐ
قاسمؑ میں ہے جہاد کا جوش اور ولولہ
اکبرؑ نے دی اذان کہ وقتِ سحر ہوا

0
858
خیالِ شبِ تیرہ سے بے خبر ہے
مِرا دل نشانِ شِگُفْتِ سَحر ہے
جہانِ مَحَبَّت میں لطفِ دِگر ہے
نئی زندگی ہے نیا ہمسفر ہے
تجھے مُنتَخَب کرنا ہمدم، یہی ایک
مِری نظروں کا خوبصورت ہنر ہے

0
170
نگاہِ رشک سے تکتے ہیں شش جہات مکمل
وہ مجھ پہ کر رہے ہیں چشمِ التفات مکمل
مِرے وجود سے دنیائے عشق کو ملی رونق
مِرے بغیر کہاں تھی یہ کائنات مکمل
اے دوستو! مِرے اشعار دل کے کانوں سے سنیو
مِلے گی اِن میں تمہیں دل کی واردات مکمل

0
188
صبحِ ہنگام ہوتی ہے بیدار
ختم ہوتی ہے جستجوئے یار
اِک تمہاری نگاہِ اُلفت سے
ہوے بیکار، رنج و غم، آزار
دامنِ رحمتِ خدا میں ہے
جو کرے ہے گناہ کا اقرار

0
136
تِری جانب اُٹھتے قدم دیکھتے ہیں
ہم اپنے مقدر میں غم دیکھتے ہیں
یہ بھی اُن کا طرزِ ستم دیکھتے ہیں
عدو پر کرم ہی کرم دیکھتے ہیں
وہ غیروں میں مصروف ایسے ہوے ہیں
اب اُن کا تغافل بھی کم دیکھتے ہیں

0
146
آتے آتے صنم, رہ گئے ہیں
دیدہِ نم بھی نم رہ گئے ہیں
مائلِ لطف غیروں پہ ہیں وہ
غم اُٹھانے کو ہم رہ گئے ہیں
نامہ بَر! خط اُنہیں دے کے کہنا
کچھ اَلم, بے رقم رہ گئے ہیں

0
103
لمحہ بھر کی بات ہے
چارہ گر کی بات ہے
دشت و در کی بات ہے
میرے گھر کی بات ہے
کارگر کی بات ہے
اِک شرر کی بات ہے

0
111
زندگی ہے کہ گھٹتی جاتی ہے
آتشِ عشق بڑھتی جاتی ہے
ایک دنیا ٹھہر کے دیکھتی ہے
اِک حَسیں لڑکی چلتی جاتی ہے
ہے تِرے انتظار میں کوئی
گھر چلو شام ڈھلتی جاتی ہے

0
128
غم زدہ ہے, شاد ہے
دل بھی اِک اضداد ہے
کیسی یہ اُفتاد ہے
اُن دِنوں کی یاد ہے
وائے قسمت! باغ پر
پہرہِ صیّاد ہے

0
98
یکسر مہک اُٹھا ہے چمن, عید مبارک
مسرور ہوے اہلِ وطن, عید مبارک
تم درد سمجھتے ہو ہر اِک خلقِ خدا کا
اہلِ اَدَب و اہلِ سُخن, عید مبارک
تم کرتی ہو ہر روز رخِ یار کا دیدار
اے بادِ صبا, صبحِ چمن, عید مبارک

0
116
گلزارِ دو عالم کے گُل اظہارِ خَجْلَت کرتے ہیں
جانِ بَہاراں باغ مِیں جب بھی سُکُونَت کرتے ہیں
ایسے ادا ہم ربِ دو عالم کی سُنَّت کرتے ہیں
ذکرِ محمد مصطفیٰ ہم اپنی عادت کرتے ہیں
ہم جب بھی اُن سے التجائے اِسْتِعانَت کرتے ہیں
پیارے کریم آقا اُسی لمحے اِعانَت کرتے ہیں

0
97
مقصودِ دو جہاں اے کہ سلطانِ این و آں
اے عارفِِ شہود و نہاں رازِ کن فکاں
پاتے ہیں سب تجھی سے شہا غیب کی خبر
بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر
اے مالکِ ہر ایک جہاں رشکِ قدسیاں
قس سامِ کنزِ غیب ہو شاہِ شہِ جہاں

0
357
جہاں سے بندہِ عالی اُٹھا, ہائے
یتیم و مسکیں کا والی اُٹھا, ہائے
اندھیرا چھا گیا ہر ایک جانب
خدا کا چہرہِ حالی اُٹھا, ہائے

0
98
ڈھل گئی شام، صبح آتی ہے
یاد گھر کی بہت ستاتی ہے
ہم کہاں آتے ہیں تِری گلی میں
بس تِری یاد کھینچ لاتی ہے
دھیان سے حالِ دل مِرا سننا
آہ، میری شرر بناتی ہے

0
123
رونقِ بزمِ ولایت حضرتِ برکت علیؓ
فقرِ حیدر کی ہیں زینت حضرتِ برکت علیؓ
افتخارِ دین و مِلّت حضرتِ برکت علیؓ
صاحبِ ادراک و حکمت حضرتِ برکت علیؓ
ہر طرف سے آ رہی ہے ذکرِ احمدؐ کی صدا
ہے تِری زندہ کرامت حضرتِ برکت علیؓ

0
120
ہر ادا ہے مثلِ پیغمبر بلند
کیوں نہ ہو پھر پیکرِ شبر بلند
جنگ کا میداں ہو یا میدانِ صلح
ہر جگہ ہے ابنِ احمد سر بلند
آج بھی ہے راج شاہِ خلد کا
آج بھی ہے پرچمِ شبر بلند

0
120
ہے سجی تصویرِ شبر صحنِ باغِ خلد میں
ٹھہرے ہیں آرائشِ خُلدِ چمن حضرت حسنؑ
سینہ سے پا تک شبیہِ مصطفی حضرت حسین
اور جبین و چشم رخسار و ذقن حضرت حسنؑ
روزِ محشر شاہؔد اپنی تشنگی ہو گی فَرو
دیں گے ہم کو پیالہِ شیریں لَبَن حضرت حسنؑ

0
120
جامِ صہبا ٹوٹ کے بکھرا تو کیا
واں سلامت چشمِ ساقی ہے ابھی
او! مِرے ظالم، مِرے بیداد گر !
ایک زخم اور، جان باقی ہے ابھی
یار سے شاہدؔ ہوا ہے ہم کلام
آرزوئے دید باقی ہے ابھی

107
نہیں سہل کچھ تِرے عشق کا حق ادا ہو جانا
مِری ہستی کا تِری ہستی میں ہے فنا ہو جانا
مِرے عشق کی طلب ہے یہی، ہے یہی تمنا
تجھے دیکھتے ہی رہنا تُجھی میں فنا ہو جانا
تِری بارگاہِ مقبول تلک مجھے لے آیا
تِری جستجو میں دنیا سے مِرا خفا ہو جانا

0
106
جانِ احمدؐ, شانِ قدرت سیدہ زہرا بتولؑ
زوجِ سردارِ ولایت سیدہ زہرا بتولؑ
مرکزِ تطہیر, اُمِ حضرتِ حسنینؑ, اور
حضرتِ حیدرؑ کی زینت سیدہ زہرا بتولؑ
دو جہاں اندر رسولِ اکرم و اعظمؐ کی ہیں
عکسِ صورت عکسِ سیرت سیدہ زہرا بتولؑ

0
244
میں کس طرح لکھوں شانِ راحتِ شہِ دیںؐ
اونچا مقام ہے زوجِ حضرتِ شہِ دیںؐ
کل مومنوں کی وہ ماں سادات کی وہ جَدَّہ
یہ مرتبہ ہوا ہے با نسبتِ شہِ دیںؐ
عز و شرف یہ اُمِ زہراؑ کا اللہ اللہ
اسلام کی وہ محسن وہ عصمتِ شہِ دیںؐ

0
177
سن رہے ہیں علیؑ, بَتا کیا ہے؟
دلِ ناداں تجھے ہوا کیا ہے؟
نامِ حیدرؑ سے کیوں بگڑتا ہے؟
آخر اِس درد کی دوا کیا ہے؟
ذکرِ حیدرؑ سے روکنے والو
کاش! پوچھو کہ مدعا کیا ہے

0
109
بوقتِ ذکرِ علیؑ شورِ ہاؤ ہو کیا ہے؟
تمہیں کہو کہ یہ اندازِ گفتگو کیا ہے؟
ہوے ہیں چاک گریبان عشقِ حیدرؑ میں
ہماری جیب کو اب حاجتِ رفو کیا ہے
پئیں گے ساقیِ کوثرؑ کے ہاتھ سے جا کر
یہ شیشہ و قدح و کوزہ و سبو کیا ہے؟

0
127
مضطرب کیوں ہے، مدعا کیا ہے؟
دلِ ناداں تجھے ہوا کیا ہے؟
تیرے ہوتے بھی، دل میں ہوتا ہے
آخر اِس درد کی دوا کیا ہے؟
اُس کے ہوتے بھی اِنتظار اُس کا
یا الہی یہ ماجرا کیا ہے؟

0
141
بے کَلی کے دن گزرتے ہی نہیں
بات آنے کی وہ کرتے ہی نہیں
دیکھیے غنچے سبھی مرجھا گئے
آپ گلشن سے گزرتے ہی نہیں
اے خدا کیا ہو گیا اُن کو، کہ وہ
عہد و پیماں سے مُکرتے ہی نہیں

162
جس نے یہ ہستی مِری غم سے عِبارت کر دی
اُسی کی یاد خدا نے مِری عادت کر دی
پہلے اِس تلخی سے مارا مجھے پھر قدرت نے
چار سُو میرے محبت ہی محبت کر دی
ہائے، جو قاسمِ فرحت نے بوقتِ تقسیم
مجھے دیکھا تو مِرے حصے میں وحشت کر دی

0
122
کرنے کو رب کی مدد, لے کے گھرانہ
کربلا جا رہے ہیں حضرتِ شبیرؑ

0
98
از پئے تیرِ نگاہِ یار ہے
دل مِرا، آنکھیں مِری، سینہ مِرا

0
113
ایسے ہیں ہم تِرے بوسے کی طلب میں پاگل
جیسے مے کش ہو کوئی مے کی طلب میں پاگل
چاندنی ہے تِرےلمسِ جبیں کو بے تاب، اور
بوئے گُل ہے تِرے جامے کی طلب میں پاگل

0
117
یہ راہِ عشق و وفا ہے رہِ سَقر نہیں یارو
یہاں پہ کیوں کسی کا کوئی ہم سفر نہیں یارو؟
یہ کیسی اُس کی محبت ہے کیسی اُس کی وفا ہے؟
میں مر رہا ہوں یہاں اور اُسے خبر نہیں یارو
یہ جو اِدھر دلِ شاہؔد میں روح سوز خلش ہے
یہ نامراد سی دل کی خلش اُدھر نہیں یارو

0
108
ہم کو نہ حشر میں ہو گی فکر کوئی حساب کی
بندگی جو ہوئی زیارت کسی کے شباب کی
دیدہِ مست آفریں سے کیا تم نے سب کو مست
اور دکان کھولے بیٹھے رہے ہم شراب کی
باغ میں وہ ہے ساقی ہے اور ہیں کچھ سُبُوئے مَے
رونقیں یوں بڑھی ہوئی ہیں شبِ ماہتاب کی

0
98
بتاؤ کس نے کروایا تھا وہ سب و شتم، کس نے
عداوت حضرتِ حیدر سے رکھی یہ بھی بتلاؤ
بتاتے ہو ہمیں صلحِ حسن کا چیخ چِلّا کے
مگر اِس میں کی کس نے عہد شکنی یہ بھی بتلاؤ
کرو صلحِ حسن کا شوق سے پرچار اے واعظ
ولیکن شرطِ پنجم اُس میں کیا تھی یہ بھی بتلاؤ

0
94
مِرے ارماں میں یہ بھی ایک ہے ارماں شاہد
اُسے سگریٹ پلاؤں میں پلائے وہ مجھے

0
83
جب زرا خورشید ڈوبے، رات آئے
گھیر لیتے ہیں تِری یادوں کے سائے
جادہِ منزل کے تارے بن گئے
میں نے جو وقتِ سحر آنسو بہائے
گِرد اُن کے ہے ہجومِ پاسباں
بزم میں جائے کوئی تو کیسے جائے

0
126
چشت کے تاجور, عطائے رسول
عارفِ نامور, عطائے رسول
سایہِ ذاتِ لم یزل تم ہو
ابنِ خیرالبشر, عطائے رسول
ہو گئیں رحمتیں خدا کی اُدھر
ہو گئے ہیں جدھر، عطائے رسول

0
125
وقتِ آخر ہی نظر رشکِ مسیحا کرتے
عمر گزری تھی مِری تیری تمنا کرتے
پھر سبھی واعظِ نادان بھی سجدہ کرتے
وہ کبھی سامنے گر نقشِ کفِ پا کرتے
ایک صورت یہی سجدہ اُنہیں کرنے کی تھی
ہم شجر ہوتے حجر ہوتے تو سجدہ کرتے

0
150
اُس کی صورت بہت بَھلی ہے کیا؟
غنچہ لب، چشم سُرمئی ہے کیا؟
تُو نے دیکھا ہے اُس کو نامہ بھر
تُو ہی بتلا وہ چاند سی ہے کیا؟
ہم سے چہرہ چھپائے بیٹھے ہو
جانِ جاناں یہ دل لگی ہے کیا؟

0
143
گر مِری قسمت میں اُس کا دور ہونا ہے لکھا
پھر مجھے بھی دیدہِ تبریق دے میرے خدا

0
108
ہر سمت شہرِ یار میں شور اِک یہی اُٹھا
آئی بلا، لے قہر پڑا، دل لہو ہوا
پہلے تو بزمِ ساقی میں دورِ غزل چلا
پھر ایک اِک کو جامِ شرابِ کُہن مِلا
محشر کے دن بھی تازگی اپنی نہ جائے گی
کھائی ہے یار ہم نے تِرے دشت کی ہوا

0
160
سنو دیوانے شام ہو چلی ہے
چلو مے خانے شام ہو چلی ہے
صاحبانِ غمِ محبت اب
کہو افسانے شام ہو چلی ہے
پہلے ساقی غزل سناؤ, پھر
بَھرو پیمانے شام ہو چلی ہے

0
199
دل زرا اُجڑ جائے تو میں یاد آؤں گا
فصلِ گُل گزر جائے تو میں یاد آؤں گا
جو ہوائے رنج و تاب میں کبھی کہیں تیری
زندگی بِکھر جائے تو میں یاد آؤں گا
پھول دیکھ کر گُلشن میں کہیں تمہارا جو
دل ٹھہر ٹھہر جائے تو میں یاد آؤں گا

0
157
حالِ دل اُن سے کہہ نہیں سکتا
جانتے ہیں وہ سب بغیر کہے
نیند میں موت کا رہے کھٹکا
وہ نہ جس رات شب بخیر کہے
نیند آتی نہیں مجھے شاہد
جب تلک وہ نہ شب بخیر کہے

0
96
یہ تو خلافِ اَدب ہے، یہ آرزو بھی رہے
میں اُن کی بزم میں جاؤں تو گفتگو بھی رہے
نجانے کتنے عدو کتنے عیب جُو بھی رہے
یہ آرزو کہ مِرے آس پاس تُو بھی رہے
تلاشِ یار مِیں دیکھوں مَیں غیر کی جانب؟
حرام ہے جو مجھے اپنی جستجو بھی رہے

116
وجدانِ عبادت تو مِلا ہی نہیں, صد حیف
قدموں مِیں تُمہارے مَیں جُھکا ہی نہیں, صد حیف
سجدے سے میں انکار کِیا ہی نہیں, صد حیف
لیکن تُو خدا میرا بَنا ہی نہیں, صد حیف
اب تم سے مجھے کوئی گِلہ ہی نہیں, صد حیف
اے جان! مَیں, مَیں تو وہ رہا ہی نہیں, صد حیف

0
135
مت اب بنائیں صورتیں بہانے کی
قسم نبھائیں آپ اپنے آنے کی
جب آپ آئیں گے تو یہ دل و نگاہ
ہے میری چاہ، راہ میں بچھانے کی
سبھی دِیے بُجھانے میں لگے ہیں، تم
سبیل کچھ کرو دِیا جَلانے کی

0
143
زندگی سے کیا پایا؟
دوست بے وفا پایا
خوش نصیب ہیں، ہم نے
درد بے دوا پایا
رہ گئیں تمنائیں
دل مَرا ہوا پایا

0
147
غموں کو بُھلا دینے والے حَسیں، دوست
مِری ہر خوشی کے ہوے ہیں اَمیں، دوست
اے میرے دلِ ناتواں کے مَکیں، دوست
تِرا ہجر مجھ کو گوارا نہیں، دوست
تجھے کس طرح، کیسے سمجھاؤں یہ بات
تِرے بِن سکونِ دل و جاں نہیں، دوست

0
142
شرحِ حرفِ لن ترانی اور ہے؟
ہاں ابھی رازِ نہانی اور ہے
جو کُھلا مجھ پر معانی اور ہے
عاشقی سے تیری مجھ پر عشق کا
جو کُھلا ہے وہ معانی اور ہے
جو کہا تھا شعر وہ کچھ اور تھا

0
149
دن جو پھیلا تو چلے مسجد کی سمت
رات پھیلی، چل دیے میخانے ہم
پینے کو جو ملتی آنکھوں سے تِری
کیوں اُٹھاتے پھرتے یہ پیمانے ہم

0
123
میں سارے جہاں کو بُھلائے ہوے ہوں
تُجھے اپنے دل میں بَسائے ہوے ہوں
سکونِ دل و جاں گنوائے ہوے ہوں
دل اِک بے وفا سے لگائے ہوے ہوں
مِرے ساتھ تم مت چلو عشق کی چال
بہت اِس کو میں آزمائے ہوے ہوں

0
190
کیا؟ تِرا دل اُچاٹ ہوتا ہے
لو، چَلا جاتا ہوں مِیں محفل سے
کچھ ادھورا کبھی رہا ہی نہیں
نسبت اپنی ہے پیرِ کامل سے
بن کے شاہد نشانِ جادہ ہم
رہتے جاتے ہیں دور منزل سے

0
121
مجھے اس لیے بھی وہ اچھا لگا ہے
حَسیں، دلکشا، خوش نظر، خوش ادا ہے
مِرا سانس تو اب رُکا جا رہا ہے
تِرے ظلم کی کیا کوئی انتہا ہے؟
زرا دیکھ لو تم ہمیں مسکرا کر
ہمارے دلِ خستہ کی التجا ہے

0
124
غموں کی مالا میں منظوم؟ ہاں منظوم ہوں یارم
ترے جانے سے میں مغموم؟ ہاں مغموم ہوں یارم
اب اِس سے بڑھ کے میری بد نصیبی اور کیا ہو گی
تمہارے لمس سے محروم؟ ہاں محروم ہوں یارم
تمہاری ذات لافانی تمہارے جلوے لافانی
میں شاہدؔ اِک بشر معدوم؟ ہاں معدوم ہوں یارم

0
127
اُس کو سنتا ہے اُس کو تکتا ہے
مجھ سے قاصد ہی میرا اچھا ہے
ہم تو رہتے ہیں اُن کے زیرِ ستم
یہ کرم کیا ہے کس پہ ہوتا ہے؟
ہیں اُدھر کرنے کو جفائیں ہزار
اور اِدھر میری جان تنہا ہے

0
147
وہ کچھ اِس طرح مِرا کام تمام کر رہے ہیں
سبھی لوگ یاد اللہ کا نام کر رہے ہیں
اُنہیں تیر کی ضرورت ہے نہ خنجر و حجر کی
وہ نگاہ پھیر کے قصہ تمام کر رہے ہیں
تھی یہ آرزو سلامت رہیں دین و دل ہمارے
سو ہم اُن کے کوچہِ بند میں قیام کر رہے ہیں

0
156
گناہوں سے حفاظت ہو گئی ہے
دِل و جاں میں حَلاوت ہو گئی ہے
مِرے حق میں شَفاعت ہو گئی ہے
مِری ہستی عبادت ہو گئی ہے
مجھے اُن سے محبت ہو گئی ہے
مجھے تم سے نہیں کوئی شکایت

0
191
اِک نظر سے ہزاروں مارے ہیں
کہ غضب ابرو کے اِشارے ہیں
عشوہ و ناز جو تمہارے ہیں
سبھی اندازِ حُسن پیارے ہیں
ہم مگر سادگی کے مارے ہیں
تھا جو ہم میں وہ التزام، نہ پوچھ

0
194
خلق میں تُو ہی تو لا شریک ہوا ہے
اور فقط تُو ہی اعلیٰ بعدِ خدا ہے
بیش ہا پردوں میں تیرا جلوہ چُھپا ہے
کون تجھے جان پائے پھر کہ تُو کیا ہے
نعمتیں وہ دو جہاں کو بانٹ رہا ہے
دستِ محمدؐ ہی واللہ دستِ خدا ہے

104
خود پہ بیداد کر رہا ہوں میں
تجھ کو پھر یاد کر رہا ہوں میں
دل کو ناشاد کر رہا ہوں میں
غم سے آزاد کر رہا ہوں میں
ساری دنیا کو بھول کر ہمدم
اِک تجھے یاد کر رہا ہوں میں

176
اِک سراپا جلوہِ اِنّ تَنْصُرو سجدے میں ہے
معنیِ تطہیر شرحِ وصبرو سجدے میں ہے
دیکھیے وہ بندہِ سُبْحَانَهٝ سجدے میں ہے
جس کی جرأت پر جہانِ رنگ و بو سجدے میں ہے
آج وہ رمز آشنائے سرِّ ھو سجدے میں ہے
کیسا پامردی ہے, بے بس ہو گئے اہلِ جفا

577
بے شجرہ انسان ہی تو جملے پلید، ناپاک بولتا ہے
رہے نہ جس میں کوئی حیا، وہ بے دید، ناپاک بولتا ہے
امامِ عالی مقامؑ کے نام سے وَہی منہ بگارتے ہیں
کہ جن کے خونِ نَجس میں اب بھی یزید، ناپاک بولتا ہے

92
مردِ جَری، ابو الاحرار ابنِ کرارؑ
بَر حق مجاہدوں کے سردار ابنِ کرارؑ
جس سمت یہ ہوے ہیں اس سمت حق ہوا ہے
سارے جہاں میں حق کا معیار ابنِ کرارؑ
حسنینؑ کی محبت کا ہیں صِلہ محمدؐ
ایمانِ کُل ہیں ابنِ کرار ابنِ کرارؑ

169
افراطِ غم کا دن ہے احباب، یومِ عاشور
لاتا ہے آنسوؤں کا سیلاب، یومِ عاشور
آنسو حُسینؑ کے غم میں جب نبیؐ بہائیں
کیسے ہو ضبط کی مجھ کو تاب، یومِ عاشور
اللہ کی ہو لعنت تجھ پر اے دشمنِ دیں
آلِ نبیؐ کو رکّھا بے آب، یومِ عاشور

0
142
واہ حُرؓ کیسی قسمت تُو نے پائی ہے
ایک لمحے میں جنت تُو نے پائی ہے
دے کے اپنا سرِ پاک پیشِ امامؑ
دو جہانوں کی عزت تُو نے پائی ہے
آسماں والے بھی تجھ پہ کرتے ہیں رشک
ابنِ حیدرؑ کی قربت تُو نے پائی ہے

0
191
رَضا کا بھید یوں بتا گئے حُسینؑ
کہ زیرِ تیغ مُسکرا گئے حُسینؑ
عُہُود اِس طرح نبھا گئے حُسینؑ
ہر اِک جہان کو رُلا گئے حُسینؑ
زبانِ خلق پر ثنا حُسینؑ کی
نگاہِ خلق میں سما گئے حُسینؑ

0
135
چہرہ جو ہو منظور میاںؓ کا مِرے آگے
کیسے نہ کُھلے عرفاں کا رستہ مِرے آگے
دل نے دی گواہی کہ یہی چہرہِ حق ہے
آیا جو تمہارا رخِ زیبا مِرے آگے
تعظیم سے چلتا ہوں جھکائے سر کو
ہیں خاص بہت نقشِ کفِ پا مرے آگے

0
107
یوں ہی نہیں لوح و قلم آیا مِرے آگے
تھا مدحتِ سرورؐ کا اِرادہ مِرے آگے
کیا خوب ثنا ہوتی ہے قرآن کے ہوتے
کُھلتے ہیں مضامین یوں کیا کیا مِرے آگے
ہوتی ہے شَبِ تار مِری تجھ سے منور
رہتا ہے تَرے رُخ سے اُجالا مِرے آگے

0
151
مجھے درد کیسا یہ لاحق ہوا
تعجب میں ہیں چارہ گر دیکھیے

0
145
کرتی ہے فضا رقصِ تماشہ مرے آگے
رہتا ہے یہ عالم تہ و بالا مرے آگے
خاموش ہیں سب رنگِ تمنا مرے آگے
بکھرا ہے سکوتِ شبِ یلدا مرے آگے
اِک نکتہِ حق ہو گیا ظاہر مرے ہوتے
حیرت میں ہے پیمانہ خرد کا مرے آگے

0
205
اُس کی بَل کھاتی کمر، زلفِ مُعنبر، رُخِ ماہ
ہر شے ہی حد سے سوا خوب ہے، سبحن اللہ
چُلْبُلاہَٹ ہو غضب ہو کہ ہو کوئی صورت
اُس کی ہر ایک ادا خوب ہے، سبحن اللہ
بعد از قتلِ جہاں جو مجھے مارا، تو کہا
بندہ یہ قتل ہوا خوب ہے، سبحن اللہ

0
114
بادل آیا ہے مینہ برسا ہے
شہرِ لاہور اور نکھرا ہے
ابر ہے مینہ اور جھالا ہے
مجھ کو حاصل بہار کیا کیا ہے
اب تو ساقی مجھے پِلا دے شراب
دیکھ تو روزِ ابر آیا ہے

0
199
غیر کو یوں مضمحل کر دیجیے
مجھ کو اِک بوسہ لبوں پر دیجیے
پھر مِری فرحت کا ساماں کیجیے
قربت اپنی مجھ کو شب بھر دیجیے

0
93
ہم نے غَزَلِ نو کہہ کے شاہدؔ
ظاہر کئی راز کر دیے ہیں

0
102
اُس رُخ کو نہ ہر گز مَہِ تابان سمجھیے
واللہ سمجھیے جو تو قرآن سمجھیے
ہیں آپ مِرے جسم میں تمثیلِ دل و جاں
بعد اپنے مِرے جسم کو بے جان سمجھیے
وہ جو نَظَرِ لطف کریں گاہے بَگاہے
کیوں ایسی نظر کو نہ پھر احسان سمجھیے

0
243
زمرہِ اصحاب میں نایاب گوہر دیکھ کر
وارثِ دانائی و محراب و منبر دیکھ کر
بعد اپنے سب سے اعلیٰ سب سے برتر دیکھ کر
مرتضیٰؑ کو خانہ زادِ ربِ اکبر دیکھ کر
بیاہ دی بیٹی پیمبرؐ نے بڑا گھر دیکھ کر

0
175
پھول کِھل اُٹھے عجب رنگ ہوا طیر کا
عزم جب اُس نے کیا گل کدے کی سیر کا
آپ کی ہر بات میں تذکرہ ہے غیر کا
پہلو پھر ایسے میں کیا نکلے کوئی خیر کا
بس کہ ہمیں پر کریں آپ جفائیں تمام
غیر ہے کیا، غیر ہے کون، ہے کیا غیر کا؟

0
103
کبھی بھی اب تو پہلے مرتبے پر آ نہیں سکتا
گِرے جو آنکھ سے آنسو وہ رفعت پا نہیں سکتا

0
104
ہر گھڑی تو وہ مجھ سے لڑتی ہے
پھر بچھڑنے سے کیوں وہ ڈرتی ہے
میرے مرنے کی بات سن کر وہ
سسکیاں اور آہیں بھرتی ہے
بستیِ پھول کی ہر اک رنگت
اس کے دستِ حنا سے لڑتی ہے

0
122
جُھومتا رحمتوں کا سَحاب آ گیا
شہرِ لاہور پر پھر شباب آ گیا
جب بھی پہنچا میں دہلیزِ لاہور پر
یوں لگا مجھ کو جنت کا باب آ گیا
اب رہے تم کو ہر وقت پاسِ اَدب
اب کہ شہروں میں شہرِ مُجاب آ گیا

0
135
تجھے یاد کرتے سحر ہو رہی ہے
مِری زندگی مختصر ہو رہی ہے
تُمِہیں سے تو ہے خدشہِ بے وفائی
تُمِہیں سے محبت مگر ہو رہی ہے
جدا ہو کے تم سے یہ حالت ہوئی ہے
جگر چھلنی ہے، چشم تر ہو رہی ہے

0
158
کرتے تھے جو خواہش مرے دل میں سمونے کے لیے
اب وہ بہانے ڈھونڈتے ہیں دور ہونے کے لیے
کس چیز کے کھو جانے کا میں غم کروں اے جانِ جاں
کھو کر تمہیں باقی بچا ہی کیا ہے کھونے کے لیے
جاناں تمہارے بعد یوں کی بانٹ اپنے وقت کی
دن رکھ لیا ہنسنے کی خاطر، رات رونے کے لیے

0
169
اگر وہ جذبہِ شدت ہی مر گیا تو تُو کہہ دے
میں تیرے واسطے اچھا نہیں رہا تو تُو کہہ دے
تجھے جدائی کی گر مل گئی دوا تو تُو کہہ دے
مِرے بغیر تجھے چین آ گیا تو تُو کہہ دے
اگر دل اپنا ہلکا ہے کرنا تم نے تو کر لے
 اگر مجھے کہنا ہے بُرا بھلا تو تُو کہہ دے

0
174
اُن کی محفل سے نہ کیوں رحمتِ یزداں نکلے
جن کی محفل سے کبھی بادہ و پیماں نکلے
پورا کر کے سَبھی اُس بزم سے ارماں نکلے
ہم ہی بس مضظَرب الحال پریشاں نکلے
دیکھو کب پھیلتی ہے دنیا میں وحشت میری
دیکھو کب گھر سے مِرے راہِ بیاباں نکلے

0
172
وہ رگِ جاں کے قریں تو یہ ہوے جاں کے قریں
دونوں کے مابین ہے کیا فرق کچھ کھلتا نہیں

0
165
بے بس ہو چرخ، آئے بھونچال پھر زمیں کو
ظاہر کریں کبھی وہ جو حُسنِ آفریں کو
آنکھیں جُھکی رہیں ساری زندگی حیا سے
میں دیکھ ہی نہ پایا جی بھر کے مہ جبیں کو
جس سے یہ کی گئی ہے آرائشِ دو عالم
خواہش ہے دیکھ لوں میں اُس جلوہ آفریں کو

0
115
مجلسِ عشق تڑپتی رہی سن کر
یوں بیاں ہوتی رہی سیرتِ دکھ درد
بے دھڑک ہو کے کریں مشقِ جفا آپ
کہ ہمِیں جانتے ہیں قیمتِ دکھ درد
زور آور بھی شکستہ ہوے دیکھے
کبھی ظاہر جو ہوئی صورتِ دکھ درد

0
112
تُو کہاں ہے دوسْتا کہ یاد تری سے
قلب و جگر میرے رات بھر ہیں سلگتے
گردشِ دوراں کا یہ ستم رہا اچھا
دوست دیے مجھ کو اور دوست بھی، ایسے
آج فُزُوں ہوتی دیکھو شانِ گلستاں
آج چلے ہیں وہ گُل کدے کو ٹہلنے

0
187
مرا عشق یا رب سلامت رہے
وہ آنکھ اور جبیں سب سلامت رہے

0
165
زندگی جو خفا ہے، کیا کہیے
یہ بھی اُس کی ادا ہے، کیا کہیے
یہ عجب ماجرا ہے، کیا کہیے
دردِ دل لا دوا ہے، کیا کہیے
پوچھتے ہیں تُو کیا ہے، کیا کہیے؟
اپنا ہے؟ بے وفا ہے؟ کیا کہیے؟

0
180
اُس سے بڑھ کر ہے رُخِ تابندہ کی تابندگی 
 میں نہیں کہتا کہ تیرا رُخ مہِ تمثال  ہے

0
99
یوں جنتِ بریں اپنے نام کر رہے ہیں
ہم اُن کا تذکرہ صبح و شام کر رہے ہیں
عارض پہ ڈال کر گیسوئے سیاہ شاہؔد
دیکھو وہ صبحِ مطلع پر شام کر رہے ہیں

0
153
کیا شوخ طَرَح دار وہ اللہُ غنی ہے
ہے مَرمَرِیں پیکر وہ غَزالِ خُتَنی ہے
ہر عُضوِ بَدن رشکِ عَقیقِ یَمَنی ہے
جوبن بُتِ نو خیز کا ایماں شِکَنی ہے
دیکھے جو اُسے جان پہ پھر اُس کی بَنی ہے
کیا گُل بَدَنی گُل بَدَنی گُل بَدَنی ہے

0
271
یاور علیؑ صفدر علیؑ افسر علیؑ حیدر علیؑ
حاصل علیؑ واصل علیؑ کامل علیؑ برتر علیؑ
ہادی علیؑ شافی علیؑ کافی علیؑ رہبر علیؑ
مالک علیؑ قاسم علیؑ حاکم علیؑ سرور علیؑ
بس ایک اللہ اور نبی ہر گز نہیں میرا علیؑ
اِس کے علاوہ حاملِ ہر رتبہ ہے مولا علیؑ

0
169
تجھ پر سلام اے فقرِ حیدرؑ کے امیں، برکت علیؓ
تجھ پر سلام اے اولیاء میں بہتریں، برکت علیؓ
تجھ پر سلام اے راز دارِ روح الامیںؑ، برکت علیؓ
تجھ پر سلام اے عبدِ رَبُّ الْعالَمِیں، برکت علیؓ
تجھ پر سلام اے طائرِ عرشِ بریں، برکت علیؓ
تجھ پر سلام اے کشورِ حق کے مکیں، برکت علیؓ

0
122
مطلعِ شمسِ وحدت پہ لاکھوں سلام
خاتمِ ہر نبوت پہ لاکھوں سلام
حاملِ ہر فضیلت پہ لاکھوں سلام
مصطفٰی جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام
شمعِ بزمِ ہدایت پہ لاکھوں سلام
صاحبِ اوج و رفعت پہ لاکھوں سلام

0
1327
اِک اُداسی سی کھا رہی ہے مجھے
زندگی آزما رہی ہے مجھے
پہلے وہ خود لگا کر اپنی لگن
اب تماشا بنا رہی ہے مجھے
یاد تیری مِیں مَر رہا ہوں مَیں
اور تُو ہے بُھلا رہی ہے مجھے

0
151
ہر شجر ہر پھول پتا کاہشِ جاں ہو گیا
وہ گیا ایسا, چمن سارا بیاباں ہو گیا
اب محبت کا گماں اِس طَور سے کیسے نہ ہو
دیکھ کے مجھ کو پریشاں وہ پریشاں ہو گیا
یہ ہماری بے خودی تھی یا کہ تھا سوزِ دروں
آنکھ سے آنسو جو چھلکا وہ ہی طوفاں ہو گیا

0
170
کرم کرنے کو تو ہر بار وہ دشمن کی اور جائیں
مگر میری طرف ہر بار وہ کرنے کو بیداد آئے
مِری وحشت کا پایہ تو نہ کوئی پا سکا یاں پر
اگر چہ دشت و صحرا میں بہت قیس آئے فرہاد آئے
جو آب و تاب عز و شان دیکھی خُلد کی شاہدؔ
تو ہم کو اُن کا کوچہ اُن کے بام و در ہی یاد آئے

0
101
حق سے ذی شان مرتبہ لیں گے
یعنی ہم حبِ مرتضیؑ لیں گے
کیوں پریشان ہوتا ہے شاہدؔ
علیؑ ہیں, حشر میں بچا لیں گے

0
141
یاد پھر آ رہے ہیں مجھ کو ترے بام و در
کاش پھر ہو مِری قسمت میں ترے در کا سفر
مرتبہ ہم نے عجب دیکھا ہے تیرے در کا
شاہ دنیا کے جُھکے دیکھے ہیں تیرے در پر
میں ترا ہوں تُو جگہ دے مجھے میرے شاہا
یا لگے گا تجھے اچھا میں رہوں یونہی بے در

0
204
تمہاری آمد ممنونِ لالہ زار ہوئی ہے
خزاں تمہارے آنے سے ہی بہار ہوئی ہے

0
107
تُو مظہرِ حُسنِ بے نشاں اے ہند کے سلطاں
تُو نائبِ شہِ ہر دو جہاں اے ہند کے سلطاں
تُو جادہِ مکاں و لا مکاں اے ہند کے سلطاں
تُو زاتِ حق کا چمکتا نشاں اے ہند کے سلطاں
تمہارے در پہ جسد میرا سجدہ سجدہ پڑا ہے
مرا ہے کعبہ ترا آستاں اے ہند کے سلطاں

0
97
جس نے بھی سنا، دھمال میں تھا
وہ ایسے سُر اور تال میں تھا
ملنا کسی ایک حال میں تھا
میں اُلجھا ماہ و سال میں تھا
جب تُو میرے خیال میں تھا
وہ دور اپنا کمال میں تھا

0
136
یہ تم سے ملتجی کی التجا ہے
ہو شاہد پر کرم پیہم اے ہمدم

0
98
جانے والا نہیں اب میں کبھی میخانے سے
دل مرا لگ گیا ہے جام سے، پیمانے سے
جامی و رازی و رومی کو پلائی جس سے
مجھے پلا مرے ساقی اُسی پیمانے سے
دیکھیے تو کہیں وہ حضرتِ واعظ ہی نہ ہوں
کون جاتا ہے وہ وقتِ اذاں میخانے سے

0
161
میں جیسے جیسے ترے در کی طرف چلتا گیا
تو ویسے ویسے یہ دل میرا زندہ ہوتا گیا

0
116
جاری ہی رہتا ہے بحرِ سخا آقاؑ تیرا
آستاں سے ترے ہو غیر کہ اپنا تیرا
سب کو ملتا ہے بِنا مانگے ہی صدقہ تیرا
واہ کیا جُود و کَرَم ہے شہِ بَطْحا تیرا
نہیں سنتا ہی نہیں مانگنے والا تیرا
بخش دینا ہے، کرم کرنا ہے شیوا تیرا

0
404
مہ تاب و آفتاب منہ چھپا کے بیٹھے ہیں
وہ جب کہیں نقابِ رُخ ہٹا کے بیٹھے ہیں
ترے یہ عشوے اُن کو لُوٹ پائیں گے کیا
جو اپنا آپ پہلے ہی لُٹا کے بیٹھے ہیں

0
119
انساں کا اِس جہاں میں کچھ نہیں ہے
دی ہے مولا نے تھوڑی سی پی لو
چھوڑ کر ضد تم اپنی اے واعظ
چلو مے خانے تھوڑی سی پی لو
آیا ہے ساقی بٹنے ہے لگی مے
لگا دن جانے تھوڑی سی پی لو

0
145
بھلا چاہا تھا ہم نے کب کہ حالِ دل عیاں ہو
مگر یہ آنسوؤں کی ضد تھی ہر صورت بیاں ہو
قسم سے مجھ کو تو یہ ایک نسبت ہی ہے کافی
میں کم ترِ جہاں اور تم شہنشاہِ جہاں ہو

0
108
ہمیں پِلا تو نظر اپنی سے پِلا
ساقیا اِتنی سے ہے عرض ہماری
جب تلک دوڑ رہا ہے رگوں میں خوں
کبھی شاہدؔ سے نہ چُھوٹے گی مے خواری

0
120
یہ وعظ و پند ناصح بے کار ہی رہے گا
شاہدؔ مے خوار تھا اور مے خوار ہی رہے گا
یہ سوچ کر قدم رکھنا راہِ عشق پر تم
تمام رستے منزل تک خار ہی رہے گا
زاہد کے واسطے کعبہ بغرضِ طواف اور
شاہدؔ کے واسطے کوئے یار ہی رہے گا

0
119
تیرا شہر اسلام آباد سر آنکھوں پر
لیکن میرے دل کو بھاتا ہے لاہور

0
114
بے تحاشہ پیارا ہے تُو
زیست کا سرمایہ ہے تُو
ہوش کھو دیتا ہے شاہدؔ
سامنے جب آتا ہے تُو

0
148
علم نہیں بُرا ہوا یا اچھا ہوا دل کا
تمہیں دیا تھا تم ہی بتاؤ کیا ہوا دل کا

0
148
با خدا ہم کو وہ کہیں بھی نہ ملا
جو سکوں شاہدؔ شہرِ لاہور میں ہے

0
101
ممکن ہے جاتے جاتے رُک جائے
گر مُڑ کر وہ میری آنکھیں پڑھ لے

0
102
نہ ملنے والی منزل کے مسافر ہو گئے ہیں ہم
یہ کر کے بے وفائی ہائے کافر ہو گئے ہیں ہم

484
وجہِ نشاطِ اہلِ ایمان ماہِ رمضان
بخشش کا ہے مکمل سامان ماہِ رمضان
بخشش بھی مغفرت بھی آزادی نار سے بھی
سربسر ہے یہ کرمِ یزدان ماہِ رمضان
پھر سے ملا ہمیں کارِ خیر کا ہے موقع
شر سے نجات کا ہے فرمان ماہِ رمضان

0
3
146
اُس کے ستم نے ایسی راحت دی مجھ کو
دنیا کے سُکھ دریا بُرد کر آیا ہوں

0
87
وہ ستم کوش ابھی تک نہیں آیا شاہدؔ
زندگی بیت چلی اُس کو صدا دیتے ہوے

0
146
شرابِ ناب و تُند کا نہ عرقِ نشہ وار کا
میں تو ہوں پیاسا محض شربتِ جمالِ یار کا
وہ آنکھ شرمگیں وہ مہ جبیں وہ زُلف عنبریں
مظاہرہ ہے قدرتِ خدا کے شاہکار کا
تُو اپنا ہاتھ ساقیا خدا کے واسطے نہ روک
پلائے جا مجھے کہ عہد آیا ہے بہار کا

0
182