خدا کا نور لایا ہے ربیع الاول آیا ہے
زمانہ جگمگایا ہے ربیع الاول آیا ہے
ولادت کا مہینہ ہے اُجالا ہی اُجالا ہے
سماں بھی مسکرایا ہے ربیع الاول آیا ہے
تری عظمت جدا سب سے فقط تو ہی ملا رب سے
ترے جیسا نہ پایا ہے ربیع الاول آیا ہے
کِیا جبریل نے چرچا حبیبِ کردگار آیا
فلک بھی لہلہایا ہے ربیع الاول آیا ہے
وہ جس کے پاک قدموں پر جُھکا ہے انبیا کا سر
وہی تو افضل آیا ہے ربیع الاول آیا ہے
ہوے ہیں قلب و جاں تازہ کہ ابرِ لطف وہ برسا
سَحابِ نور چھایا ہے ربیع الاول آیا ہے
یتیموں مفلسو دیکھو خطا کارو اُٹھو دیکھو
کرم کرنے کو آیا ہے ربیع الاول آیا ہے
تمہیں شاہدؔ مبارک ہو اور اب جُھک جاؤ سجدے کو
خدا کا فضل پایا ہے ربیع الاول آیا ہے

0
4