| یہ رتبہ ہے بہت اونچا جنابِ فیضِ عالم کا |
| ہے عرفانِ خدا چہرہ جنابِ فیضِ عالم کا |
| خرد مند آپ کا رتبہ بیاں کر ہی نہیں سکتا |
| ورائے فہم ہے رتبہ جنابِ فیضِ عالم کا |
| خدا کی خاص رحمت ہے کہ اک نورِ حقیقت ہے |
| وجودِ پاک سر تا پا جنابِ فیضِ عالم کا |
| میں اِک مدت سے بیٹھا ہُوں بہ پیشِ روضہِ انور |
| نظر آئے کبھی جلوہ جنابِ فیضِ عالم کا |
| تصور ہی نہیں رہتا پھر اُس کے ہاں خسارے کا |
| جو بندہ مانگ لے صدقہ جنابِ فیضِ عالم کا |
| یہ تو ایمان ہے میرا کہ قبر و حشر مِیں شاہؔد |
| حوالہ کام آئے گا جنابِ فیضِ عالم کا |
معلومات