کرم کرنے کو تو ہر بار وہ دشمن کی اور جائیں
مگر میری طرف ہر بار وہ کرنے کو بیداد آئے
مِری وحشت کا پایہ تو نہ کوئی پا سکا یاں پر
اگر چہ دشت و صحرا میں بہت قیس آئے فرہاد آئے
جو آب و تاب عز و شان دیکھی خُلد کی شاہدؔ
تو ہم کو اُن کا کوچہ اُن کے بام و در ہی یاد آئے

0
101