چہرہ جو ہو منظور میاںؓ کا مِرے آگے
کیسے نہ کُھلے عرفاں کا رستہ مِرے آگے
دل نے دی گواہی کہ یہی چہرہِ حق ہے
آیا جو تمہارا رخِ زیبا مِرے آگے
تعظیم سے چلتا ہوں جھکائے سر کو
ہیں خاص بہت نقشِ کفِ پا مرے آگے
میں منزلِ عرفان پہ آ پہنچا ہوں شاہد
رکھا ہوا ہے میرا جنازہ مرے آگے

0
104