رب کا جلوہ کوئی کہاں ہوا ہے
مصطفی سا کوئی کہاں ہوا ہے
اُن پہ اللہ بھیجتا ہے درود
اُن کے جیسا کوئی کہاں ہوا ہے
عالم اُن کے چمکنے سے چمکے
یوں مجلی کوئی کہاں ہوا ہے
تیری نسبت سے اچھے ہیں اچھے
تجھ سا اچھا کوئی کہاں ہوا ہے
جو غلاموں کو اپنے شاہ بنائے
ایسا آقا کوئی کہاں ہوا ہے
جیسے مولا علی ہوے تجھ سے
یوں شناسا کوئی کہاں ہوا ہے
اُن کا دستِ تسلی ہے سر پر
مجھ کو خطرہ کوئی کہاں ہوا ہے
ایسا اعلی کوئی کہاں ہوا ہے
دو جہاں جس کے حسن پر ہیں نثار
یوں دل آرا کوئی کہاں ہوا ہے
تجھ سے پائیں فضیلتیں سب نے
تجھ سے اونچا کوئی کہاں ہوا ہے
سب ہوے سچے کر کے تیری بات
آپ سچا کوئی کہاں ہوا ہے
عرشِ اعلی پہ جز ترے آقا
مسند آرا کوئی کہاں ہوا ہے

0
62