قریبِ مرگ ہُوں اب زندگی نصیب ہو جائے
مِرے حضور مجھے حاضری نصیب ہو جائے
بہ پیشِ روضہِ سرور خود اپنے آپ جُھکے سر
بہ وقتِ حاضری خود رفتگی نصیب ہو جائے
درِ نبی پہ مَیں جا کے یہ مانگتا ہُوں خدا سے
درِ علی کی مجھے نوکری نصیب ہو جائے
جو اِک گھڑی ملے دربانی بابِ علمِ نبی کی
ہر ایک علمِ خفی و جلی نصیب ہو جائے
تِرے کریم پیمبر ہو جائیں خوش جِسے سُن کر
خدایا مجھ کو وہ نعتِ نبی نصیب ہو جائے

0
39