Circle Image

Adil Riaz Canadian

@urducanadatv

اپنے رب کو چلو یاد کر لیں
اس کے ناموں کے اوراد کر لیں
جتنے جھوٹے صنم ہیں بنائے
خود کو ان سب سے آزاد کر لیں
رب کو بھاتی ہے سیرت کی خوبی
راستی من میں آباد کر لیں

0
1
مٹی سے جو بنے تھے پتھر بنے ہوئے ہیں
کمزور سے یہ انساں، خود سر بنے ہوئے ہیں
یہ آگ سے ڈرا کر خود آگ ہی سے کھیلیں
لوگوں کے دل میں ان کے یوں ڈر بنے ہوئے ہیں
اخلاق میں گراوٹ کردار میں ہے پستی
انسان جانور سے بدتر بنے ہوئے ہیں

0
وقت گزرتا جاتا ہے میں کھویا ہوں
غفلت کی آغوش میں کب سے سویا ہوں
ایک عجیب سا درد ہے اور اداسی بھی
یوں لگتا ہے اپنی مرگ پہ رویا ہوں
طے نہ ہوا عنوان بھی میرے جیون کا
عمر کٹی ہے کفن میں آن سمویا ہوں

0
وہ اخبار میں جو خبر دیکھتے ہیں
ہم ان پر اسی کا اثر دیکھتے ہیں
سیاست نے میرا وطن لوٹ کھایا
بقایا کو بھی بد نظر دیکھتے ہیں
گھماتے ہیں آنکھیں وہ چشمے کے پیچھے
کدھر دیکھنا ہو کدھر دیکھتے ہیں

0
1
وہ شہر میں کرائے گا قِتال جانتے ہیں لوگ
کہ بے حجاب حسن کا وبال جانتے ہیں لوگ
وصال جو ہمیں ملا مراد اس سے اور ہے
جہان چھوڑنے کو بھی وصال جانتے ہیں لوگ
کِیا ہے جیب چاک خود اسی لیے تو جان کر
کہ اس عمل کو عشق میں کمال جانتے ہیں لوگ

0
1
بولتے ہیں وہ جھوٹ بھی اس دانائی سے
جھوٹ ہی بہتر لگتا ہے سچائی سے
زخم دِیے ہیں روح پہ اس نے بدلے میں
نفع اٹھایا جس نے مری اچھائی سے
کیسے دوست ہیں پیٹھ میں خنجر گھونپ کے بھی
کہتے ہیں ناراض نہ ہونا بھائی سے

0
مانگ رہا ہوں ایک خدا سے
دن کا ہوا آغاز دعا سے
ہمت تھی اسباب نہیں تھے
مجھ کو ملا سب اس کی عطا سے
عمر نشیب و فراز میں گزری
رب نے بچایا مجھ کو بلا سے

0
1
آسماں میری حالت پہ روتا رہا
آنسوؤں سے میں آنکھوں کو دھوتا رہا
دل پہ نشتر چلے جس کی غفلت سے وہ
بے خبر اپنے ہی گھر میں سوتا رہا
زخم مرہم دکھا کر کریدے گئے
میں دلاسے کی چادر بھِگوتا رہا

0
میں یوں خستہ حال ہوا
وہ بھی غم سے نڈھال ہوا
دشمنِ جاں ہے جب سے خفا
میرا جینا محال ہوا
روح نے روح کو پہچانا
دل کو دل کا خیال ہوا

0
2
کسی سے پیار کا دل کو ملال ہے
وفا ملی نہیں غم کا ابال ہے
گزر گیا ہے جو وہ وقت خوب تھا
جو رہ گیا ہے وہ شاید خیال ہے
کچھ اور بھی تو ہیں دل کی ضرورتیں
مگر ترے بنا جینا محال ہے

0
1
بام پر آپ آتے تو کیا بات تھی
چاند ہم دیکھ پاتے تو کیا بات تھی
شکریہ آپ تشریف لائے تو تھے
آپ آ کر نہ جاتے تو کیا بات تھی
دل کے ٹکڑے لیے سوچتے ہیں یہ ہم
تم سے دل نہ لگاتے تو کیا بات تھی

0
گالی پر بھی دعائیں دوں گا میں
صبر ہر ظلم پر کروں گا میں
مصطفی کا غلام ہوں ادنی
راہِ ایماں میں جان دوں گا میں
سر کو تسلیمِ خم کِیا میں نے
رب کی مرضی میں خوش رہوں گا میں

0
1
کر کے اقرار جیسے بدل سے گئے
میرے سرکار جیسے بدل سے گئے
ان کی آغوش سے ہے لحد کا سفر
ہو کے بیمار جیسے بدل سے گئے
دل پہ تنہائیوں کا اثر یہ ہوا
دل کے اطوار جیسے بدل سے گئے

0
1
مجھ کو خنجر سے نہ تلوار سے ڈر لگتا ہے
تیرے لہجے، تری گفتار سے ڈر لگتا ہے
یوں میں اپنوں سے کہیں دور نہ ہوتا جاؤں
زندگی! اب تری رفتار سے ڈر لگتا ہے
حسنِ گفتار پہ واعظ! ترا ماتھا چوموں
پر تری ریشمی دستار سے ڈر لگتا ہے

0
1
وقت ناساز آخر گذر جائے گا
گر ڈٹو گے زمانہ بھی ڈر جائے گا
پنچھیوں کی قطاروں کی رفتار دیکھ
سست جو پڑ گیا وہ کدھر جائے گا
آزمائش کے تیزاب میں ڈال دو
رنگ کھوٹے کا پل میں اتر جائے گا

0
1
پردیس میں مقیم سلگتے چراغ ہیں
دل میں ہمارے دیس کی چاہت کے داغ ہیں
تھی تربیت غلط سو کرپشن میں لگ گئے
ورنہ ہمارے لوگ بھی روشن دماغ ہیں
اپنے وطن میں رہ کے بھی نوحہ کناں ہو تم
ہجرت نصیب ہم ہیں جہاں، باغ باغ ہیں

0
کیا بتائیں تمہیں کہ کیا ہیں ہم؟
خود پسندی میں مبتلا ہیں ہم
آس کا آخری دیا ہیں ہم
لب پہ ٹھہری ہوئی دعا ہیں ہم
ظلم ہو قہر ہو جفا ہو تم
عشق ہیں رحم ہیں وفا ہیں ہم

0
1
دِلم قربان جاں حاضر مرا ہے پیار پاکستان
زمانے میں مری پہچاں، مرا اظہار پاکستان
نہیں ملتی ہے آزادی کسی بازار میں سن لو
شہیدوں کا لہو دے کر ملا دشوار پاکستان
جو بد قسمت ہو اس کی قدر وہ کر ہی نہیں سکتا
میں نازاں اپنی قسمت پر مرا گھر بار پاکستان

0
1
ہاتھ میں وہ کمان رکھتے ہیں
ہم ہتھیلی پہ جان رکھتے ہیں
دھوپ نفرت کی سخت ہے، سو ہم
پیار کا سائبان رکھتے ہیں
جس کے ہر لفظ میں ہے ایک جہاں
ہم وہ اردو زبان رکھتے ہیں

0
5
دل ہوا غم سے بوجھل تو میں رو دیا
کی جو خوشیوں نے ہلچل تو میں رو دیا
جس کی چاہت میں یہ دل دِوانہ ہوا
جب کہا اس نے پاگل تو میں رو دیا
میرے دل کی تمنا جو پوری ہوئی
جب ملا اس کا آنچل تو میں رو دیا

0
4
جہان بے ثبات ہے جناب دیکھیے
جھلک دکھا کے لوٹتا شباب دیکھیے
غموں کے بیچ سے خوشی کشید کیجیے
گھرا ہوا ہے کانٹوں میں گلاب دیکھیے
سہانے پل جو لد گئے وہ لوٹتے نہیں
مت ان کے لوٹنے کے آپ خواب دیکھیے

0
7
زمانے نے گھاؤ لگائے ہیں کیا کیا
ستم ہم سفر نے بھی ڈھائے ہیں کیا کیا
فقط پھول الفت کے بانٹے ہیں میں نے
مگر خار بدلے میں پائے ہیں کیا کیا
کٹی عمر راہوں میں، اب کیا بتاؤں
کہ ہجرت کے صدمے اٹھائے ہیں کیا کیا

0
8
گلچیں کے وفادار نگہبان ہوئے ہیں
یوں ہی تو نہیں باغ بھی ویران ہوئے ہیں
جس روز سے تخلیق یہ انسان ہوئے ہیں
پیدا یہاں پر ساتھ ہی شیطان ہوئے ہیں
یہ شہر ہے یا کوئی درندوں کا ٹھکانہ
کیوں لوگ سبھی ظلم کا عنوان ہوئے ہیں

0
7
آؤ دیکھیں پیار کے، رنگ کوئے یار میں
اڑ گئے اغیار کے، رنگ کوئے یار میں
خوب لمحے تھے وہی، ساتھ اس کے جو کٹے
بکھرے تھے دیدار کے، رنگ کوئے یار میں
حسن کے انداز بھی، عشق کے اطوار بھی
ہیں وہی ہر بار کے، رنگ کوئے یار میں

0
7
ہو آشا جن سے مرہم کی، دغا دیتے ہیں اکثر
نمک زخموں پہ چپکے سے لگا دیتے ہیں اکثر
ذرا سی بات پر طعنے پرانی چپقلش کے
بجھی چنگاریوں کو یوں ہوا دیتے ہیں اکثر
تری نفرت کے بدلے میں نہیں نفرت کریں گے
کہ ہم تو دشمنوں کو بھی دعا دیتے ہیں اکثر

0
2
وہ بہت ہی خاص تھا، دل کو یہ احساس تھا
سن رہا تھا دھڑکنیں، اس قدر وہ پاس تھا
واقعہ یہ کل کا تھا ساتھ اپنا پل کا تھا
ڈھل رہی تھی زندگی، وقت چل سو چل کا تھا
ایک لمحے کے لیے، جل اٹھے تھے سب دیے
سامنے تھا وہ مرے، چپ کھڑا تھا لب سیے

0
3
تن سے جاں نکلنے میں ، دیر کتنی لگتی ہے
ہڈیوں کے گلنے میں، دیر کتنی لگتی ہے
کام جب نکل آئے، مطلبی رفیقوں کا
ان کا من بدلنے میں، دیر کتنی لگتی ہے
نیک رہ پہ چلنا تو، رب کا ہے کرم ورنہ
پاؤں کے پھسلنے میں دیر کتنی لگتی ہے

0
7
مرنا بھی آسان نہیں ہے
مرقد کا سامان نہیں ہے
حیرت تھی معلوم ہوا جب
آدمی کوئی مہان نہیں ہے
موت کہاں کب آ کے جھپٹ لے
بس میں اپنی جان نہیں ہے

0
27
کوئی ہے کہ جس بِن گزارا نہیں ہے ؟
اسے چھوڑ دو جو تمہارا نہیں ہے
خدا کا بھی جو بن نہ پایا، قسم سے
نہیں ہے وہ ہرگز ہمارا نہیں ہے
یہ دل دیس کے حال پر رو نہ دے کیوں
سوا اس کے کچھ اور چارہ نہیں ہے

0
11
جو بویا تھا کبھی وہ کٹ رہا ہے
چمن میں زہرِ نفرت بٹ رہا ہے
یہ اپنے ہی کیے کا ہے نتیجہ
کہ لاشوں سے وطن اب پٹ رہا ہے
یہ خونی آندھیاں جب سے چلی ہیں
مرا ان سے کلیجہ پھٹ رہا ہے

0
11
ایک لطیف احساس ہوں میں
تیری روح کے پاس ہوں میں
کتنا گہرا رشتہ ہے
تو پانی ہے پیاس ہوں میں
بیٹھا ہے جو راہوں میں
شاید اس کی آس ہوں میں

0
22