| وفا کے رستے میں جو ملی ہیں، عداوتیں بھی شمار کرنا
|
| جو ہم نے ہنس کر سہی ہیں اب تک، ملامتیں بھی شمار کرنا
|
| وہ جن کے سائے میں کٹ گئی تھی ہماری عمرِ رواں کی خوشبو
|
| بچھڑتے لمحوں کی وہ رسیلی حکایتیں بھی شمار کرنا
|
| کبھی جو فرصت ملے تو دل کے شکستہ خانوں میں جھانک لینا
|
| جو اس میں مدفون ہو چکی ہیں، وہ حسرتیں بھی شمار کرنا
|
|
|