کر کے اقرار جیسے بدل سے گئے
میرے سرکار جیسے بدل سے گئے
ان کی آغوش سے ہے لحد کا سفر
ہو کے بیمار جیسے بدل سے گئے
دل پہ تنہائیوں کا اثر یہ ہوا
دل کے اطوار جیسے بدل سے گئے
تذکرہ جب وفا کا چھڑا ایک دم
اپنی گفتار جیسے بدل سے گئے
میں نے سمجھا کہ یہ لوگ اپنے ہیں پر
وہ تو اغیار جیسے بدل سے گئے
مدتوں بعد ان سے ہوا سامنا
یوں لگا یار جیسے بدل سے گئے
عادل ریاض کینیڈین

0
1