وہ فتنہ ہے، فتنہ ہی اس کی ادا
وہ جھوٹی خوشی کا ہے اک سلسلہ
لبوں پر وہ لاتا ہے میٹھی ہنسی
مگر دل میں بھرتا ہے کینہ ذرا
کبھی فقر و فاقے کا ڈر وہ دلائے
کبھی بخل کو کہتا ہے تو دوا
وہ دشمن پرانا ہے آدم کا دیکھ
نہیں اس کی باتوں میں کوئی وفا
بچھائے گا وہ جال ہر موڑ پر
بنا کر گناہوں کو اپنی قبا
کبھی علم کا دے کے ان دھا غرور
وہ کر دے گا سیدھی سی راہیں جدا
مگر جس کے دل میں ہو نورِ یقیں
وہی بچ سکا ہے، وہی پارسا

0
2