برکتیں رمضان کی ہیں تیس روزوں میں نہاں
آسماں سے بٹ رہی ہیں رحمتیں ہی رحمتیں
خوش نصیبی ہے کہ پھر آئی ہیں جیون میں بہار
مائدے پر سج گئی ہیں نعمتیں ہی نعمتیں
صبر بھی تیری عطا ہے، استقامت بھی تری
بچے، بوڑھے اور جواں، یہ تیری ہی ہیں قدرتیں
قدر کی اک شب کا تحفہ اس مہینے میں ملا
جس کی قرآں نے بتائی ہیں ہمیں ہی عظمتیں
بخششوں کے طالبِِِ صادق ہیں ہم، بخشے ہمیں
گرچہ اعمالوں میں ہیں بس غفلتیں ہی غفلتیں
اس مہینے کے تصدق، چل پڑیں سیدھی رہ پر
ورنہ رستوں میں اندھیرے، ظلمتیں ہی، ظلمتیں

0
4