چل نکلے ہیں، منزلِ جاں تک جائیں گے
مرتے مرتے، سچ سب کو کہہ جائیں گے
جب تک دم ہے، ڈرنا ہم کو آتا نہیں
راہِ حق میں، منزل کو پا جائیں گے
مر مٹنا ہے، جھکنا ہم نے سیکھا نہیں
حق کی خاطر، دنیا سے ٹکرا جائیں گے
حق کی خاطر، سب کو یہ بتلا دیں گے
اپنی ہستی، راہِ حق میں گنوا دیں گے
حق کی مشعل، روشن رکھنا اے عادل!
ظلم کی کالی، رات اب ہم مٹا دیں گے

0
3