کیا بتائیں تمہیں کہ کیا ہیں ہم؟
خود پسندی میں مبتلا ہیں ہم
آس کا آخری دیا ہیں ہم
لب پہ ٹھہری ہوئی دعا ہیں ہم
ظلم ہو قہر ہو جفا ہو تم
عشق ہیں رحم ہیں وفا ہیں ہم
اجڑا اجڑا سا دل کا آنگن ہے
جب سے گھر بار سے جدا ہیں ہم
کالے کرتوت ہیں پسِ پردہ
اور کہنے کو پارسا ہیں ہم
جن کو طاقت ملے، سمجھتے ہیں
اس زمیں پر تو بس خدا ہیں ہم
تم ہو آغاز جس محبت کا
اس محبت کی انتہا ہیں ہم
عادل ریاض کینیڈین

0
2