بڑی چال باز اس کی پہچان ہے
وہ بہروپیا سا نگہبان ہے
کبھی نیکیوں کا تکبر، انا
کبھی کہتا تُو ہی تو انسان ہے
دکھائے وہ سبز اور سہانے سے باغ
کہے مفلسوں سے کہ سامان ہے
کبھی روک دے تجھ کو سجدوں سے وہ
کبھی کفر کہتا کہ ایمان ہے
ریا اور نفاق اس کے ہتھیار ہیں
جو دھوکا نہ سمجھے وہ نادان ہے

0
2