میں یوں خستہ حال ہوا
وہ بھی غم سے نڈھال ہوا
دشمنِ جاں ہے جب سے خفا
میرا جینا محال ہوا
روح نے روح کو پہچانا
دل کو دل کا خیال ہوا
گھونسلا ٹوٹا تو گھر کا
پھر سے بسنا محال ہوا
ٹوٹ گیا جو بھروسا تو
پھر نہ کبھی بھی بحال ہوا
یار پہ جب جب نظر پڑی
دل تو خوشی سے نہال ہوا

0
3