| دل سے نکلی ہوئی اک بات ذرا کہنے دو |
| دیس سانجھا ہے ہمیں بھی تو یہاں رہنے دو |
| بحرِ ظلمات سے گزرے ہیں بڑی مشکل سے |
| اب ہمیں پیار کے دریا میں ذرا بہنے دو |
| یہ سزا دیس میں حق گوئی کی ہے سب کے لیے |
| یہ جو غداری کے طعنے ہیں ہمیں سہنے دو |
| اس کی تعمیر میں اجداد کا خوں شامل ہے |
| اک انا کے لیے اس دیس کو مت ڈھہنے دو |
| گر کسی کو نہیں پہچان کھرے کھوٹے کی |
| تم نہ پھر اپنی وفاؤں کے اسے گہنے دو |
| عادل ریاض کینیڈین |
معلومات