| ہو آشا جن سے مرہم کی، دغا دیتے ہیں اکثر |
| نمک زخموں پہ چپکے سے لگا دیتے ہیں اکثر |
| ذرا سی بات پر طعنے پرانی چپقلش کے |
| بجھی چنگاریوں کو یوں ہوا دیتے ہیں اکثر |
| تری نفرت کے بدلے میں نہیں نفرت کریں گے |
| کہ ہم تو دشمنوں کو بھی دعا دیتے ہیں اکثر |
| اگرچہ یہ ضرورت ہے، مگر دنیا کے پیچھے |
| ہم انساں موت کو بھی کیوں بھلا دیتے ہیں اکثر |
| بہت سے درد ہیں دل میں مگر شکوہ نہیں ہے |
| مسلسل دکھ ہمیں بے حِس بنا دیتے ہیں اکثر |
| ہمیں محتاج مت کرنا خدایا تو کسی کا |
| کہ احساں کر کے اپنے بھی جتا دیتے ہیں اکثر |
| تمہیں نفرت سہی ہم سے، ہمیں یہ فن ملا ہے |
| کہ نفرت کو محبت سے مٹا دیتے ہیں اکثر |
| عادل ریاض کینیڈین |
معلومات