وہ شہر میں کرائے گا قِتال جانتے ہیں لوگ
کہ بے حجاب حسن کا وبال جانتے ہیں لوگ
وصال جو ہمیں ملا مراد اس سے اور ہے
جہان چھوڑنے کو بھی وصال جانتے ہیں لوگ
کِیا ہے جیب چاک خود اسی لیے تو جان کر
کہ اس عمل کو عشق میں کمال جانتے ہیں لوگ
بہت جواں گنوا دیے مگر نہیں سمجھ رہے
ہمیں لگا سیاستوں کی چال جانتے ہیں لوگ
امیر کا تو پانی تک بھی دوسروں پہ ہے حرام
غریب کا تو خون بھی حلال جانتے ہیں لوگ
تھے مسکراہٹوں میں غم چھپے ہوئے مگر ابھی
ہماری شاعری سے دل کا حال جانتے ہیں لوگ
عادل ریاض کینیڈین

0
3