کوئی ہے کہ جس بِن گزارا نہیں ہے ؟
اسے چھوڑ دو جو تمہارا نہیں ہے
خدا کا بھی جو بن نہ پایا، قسم سے
نہیں ہے وہ ہرگز ہمارا نہیں ہے
یہ دل دیس کے حال پر رو نہ دے کیوں
سوا اس کے کچھ اور چارہ نہیں ہے
اے اہلِ وطن نفرتیں چھوڑ دو تم
محبت ہے جس میں خسارہ نہیں ہے
کرو نیک کاموں میں کچھ نام پیدا
جہاں کا سفر پھر دوبارہ نہیں ہے
عادل ریاض کینیڈین

0
11