| وقت گزرتا جاتا ہے میں کھویا ہوں |
| غفلت کی آغوش میں کب سے سویا ہوں |
| ایک عجیب سا درد ہے اور اداسی بھی |
| یوں لگتا ہے اپنی مرگ پہ رویا ہوں |
| طے نہ ہوا عنوان بھی میرے جیون کا |
| عمر کٹی ہے کفن میں آن سمویا ہوں |
| ایک مسافر بن کے رہا ہوں دنیا میں |
| اب برزخ کو کوچ ہے قبر میں سویا ہوں |
| ہمراہی کیوں بچھڑے سارے رستے میں |
| میں منزل تک آ کے سوچ میں کھویا ہوں |
معلومات