دِلم قربان جاں حاضر مرا ہے پیار پاکستان
زمانے میں مری پہچاں، مرا اظہار پاکستان
نہیں ملتی ہے آزادی کسی بازار میں سن لو
شہیدوں کا لہو دے کر ملا دشوار پاکستان
جو بد قسمت ہو اس کی قدر وہ کر ہی نہیں سکتا
میں نازاں اپنی قسمت پر مرا گھر بار پاکستان
مرے دل کا یہ ٹکڑا ہے مری جاں کا سہارا ہے
مرے سکھ کا یہ ساتھی ہے مرا غم خوار پاکستان
یہی ہے آرزو دیکھوں میں جا کے اپنی جنت کو
یہاں سب کچھ ہے لیکن، ہے مجھے درکار پاکستان
یہ دھرتی کتنی پیاری ہے یہاں کے رنگ سچے ہیں
مرے رب کا کرم ہے یہ، ہے اک شہکار پاکستان
ثمر قربانیوں کا محنتوں کا یوں رہے جاری
اے رب اقوامِ عالم کا بنے سردار پاکستان

0
2