| تمہارے پاس ہیں امّاں سنبھالنا ان کو |
| انھی میں ہے مری بھی جاں سنبھالنا ان کو |
| ہرا بھرا ہوں ابھی تک دعاؤں سے ان کی |
| انھی کو ہے مرا ارماں سنبھالنا ان کو |
| پناہ دی ہے دکھوں سے انھی کے آنچل نے |
| ہیں میرے درد کا درماں سنبھالنا ان کو |
| انھی کے دم سے سبھی رونقیں ہیں دنیا کی |
| مرا جہان ہیں امّاں سنبھالنا ان کو |
| یہ والدین ہیں اُف بھی انھیں نہیں کہنا |
| ہمارے رب کا ہے فرماں سنبھالنا ان کو |
معلومات